اسلام آباد(محمد نوید) کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بحریہ ٹاؤن (فیز تھری ای اور فور)، زون 5 اسلام آباد کا 8 دسمبر 2010 کو منظور کیا گیا لے آؤٹ پلان فوری طور پر منسوخ کردیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن (فیز III-E & IV) ہاؤسنگ اسکیم کا لے آؤٹ پلان 2,999 کنال رقبے پر مشتمل تھا، جسے M/s Bahria Town (Pvt.) Ltd. کی جانب سے اسپانسر کیا گیا تھا۔ سی ڈی اے نے یہ لے آؤٹ پلان 8 دسمبر 2010 کو مختلف شرائط و ضوابط کے تحت منظور کیا تھا۔
سی ڈی اے نے قرار دیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ لے آؤٹ پلان کی منظوری میں عائد شرائط پوری کرنے اور اسکیم کے لیے سی ڈی اے سے این او سی حاصل کرنے کی ضروریات مکمل کرنے میں ناکام رہا، حالانکہ اس دوران تقریباً 15 سال گزر چکے ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق این او سی حاصل کیے بغیر اسکیم کے مقام پر ترقیاتی کام شروع کیے گئے اور زمین و پلاٹس کی فروخت بھی کی گئی۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ لے آؤٹ پلان کی منظوری کے خط کے ذریعے کمپنی کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ این او سی جاری ہونے سے قبل ترقیاتی کام اور منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیم کے زمین و پلاٹس کی فروخت سے گریز کیا جائے۔
سی ڈی اے کے مطابق این او سی کے بغیر اسکیم کی تعمیر و ترقی اور عمارتوں کی تعمیر CDA Ordinance 1960 اور ICT (Zoning) Regulation, 1992 کی خلاف ورزی ہے۔
منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزیوں کا معاملہ
سی ڈی اے نے مزید قرار دیا کہ سائٹ پر منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی مختلف خلاف ورزیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو 21 مئی 2025 کے نوٹس نمبر 204 کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ پبلک امینٹیز، جن میں پارکس، کھیل کے میدان، اوپن اسپیسز اور عوامی عمارات وغیرہ شامل ہیں، کے تمام پلاٹس خالی کرکے انہیں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق بحال کیا جائے اور 10 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ جمع کرائی جائے۔
سی ڈی اے کے مطابق کمپنی نے 29 مئی 2025 کو مذکورہ نوٹس کا جواب جمع کرایا، تاہم اتھارٹی نے واضح کیا کہ مذکورہ جواب حقائق پر مبنی نہیں تھا اور اسے قبول نہیں کیا گیا۔
نوٹس پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد 5 ستمبر 2025 کو CDA Ordinance 1960 کی دفعات 49-C، 46 اور 46-B کے تحت فائنل شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ نوٹس میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی میں تعمیرات اور زمین کے استعمال کے حوالے سے کارروائی کی ہدایت کی گئی۔
غیرقانونی کمرشل عمارتوں کے خلاف آڈٹ اعتراض
سی ڈی اے کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فیڈرل آڈٹ نے بھی آڈٹ پیرا 3.4.65/2023-24 مرتب کیا، جس کا عنوان ’Illegal Construction of Commercial Building along Corniche Road, Bahria Town Phase III-E & IV, Zone-5, without prior approval from the CDA and Violation of the Layout Plan‘ ہے۔
محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی (DAC)، جس کی سربراہی سیکریٹری وزارت داخلہ نے کی، نے اس آڈٹ پیرا پر غور کرتے ہوئے ریور بیڈ، قبرستان اور پارک/اوپن اسپیس میں تعمیر کی گئی ایسی غیرقانونی کمرشل عمارتوں کو ہٹانے کا حکم دیا۔
نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان کی درخواست بھی زیر غور رہی
سی ڈی اے نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV کے نظرثانی شدہ اور توسیعی لے آؤٹ پلان کی منظوری کے لیے 3,251 کنال رقبے پر مشتمل درخواست بھی موصول ہوئی تھی، جو موضع کوٹھا کلاں اور موضع ہمک، زون 5 اسلام آباد میں واقع ہے۔
اتھارٹی کے مطابق یہ درخواستیں 22 مئی 2025، 15 ستمبر 2025 اور 19 جنوری 2026 کے خطوط کے ذریعے موصول ہوئیں، جن کا جائزہ لینے کے بعد 6 مارچ 2026 کو مشاہدات جاری کیے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ
سی ڈی اے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 26 ستمبر 2019 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جو WP-2766/2019 ’Bahria Town (Pvt.) Ltd. Vs CDA‘ میں جاری کیا گیا تھا۔
فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ متعلقہ ہاؤسنگ اسکیموں میں ترقیاتی سرگرمیاں ایسے نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز کے مطابق کی گئیں جو اس وقت سی ڈی اے سے منظور شدہ نہیں تھے۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ غیر منظور شدہ نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز کے مطابق ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے کا طرز عمل درخواست گزار کو عدالت کے صوابدیدی اور منصفانہ دائرہ اختیار سے ریلیف حاصل کرنے سے محروم کرتا ہے۔ عدالت نے مذکورہ آئینی درخواستیں اخراجات کے حوالے سے کسی حکم کے بغیر خارج کردی تھیں۔
خلاف ورزیوں پر منظوری منسوخ کرنے کی شق
سی ڈی اے نے ICT (Zoning) Regulation, 1992 کی شق 5 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں زونز 2، 4 اور 5 کے نجی ہاؤسنگ، فارم ہاؤسنگ، اپارٹمنٹس، کمرشل اسکیموں اور منصوبوں کی منصوبہ بندی و ترقی کے 2023 کے ضوابط کی شق 42 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ڈھانچہ منہدم کیا جاسکتا ہے، این او سی یا اجازت منسوخ کی جاسکتی ہے اور CDA Ordinance 1960 کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق ICT (Zoning) Regulation, 1992 کی شق 5 (II) کے تحت بحریہ ٹاؤن (فیز III-E & IV)، زون 5 اسلام آباد کا 8 دسمبر 2010 کا لے آؤٹ پلان فوری طور پر منسوخ اور واپس لیا جاتا ہے۔
سی ڈی اے کے مزید فیصلے
لے آؤٹ پلان کی منسوخی کے علاوہ سی ڈی اے نے متعلقہ اسکیم کے بلڈنگ پلانز کی منظوری بھی معطل کردی ہے۔
اتھارٹی کے فیصلے کے مطابق M/s Bahria Town (Pvt.) Ltd. کے دیگر کیسز کی پروسیسنگ اور منظوری بھی معطل کردی گئی ہے، کیونکہ کمپنی کو سی ڈی اے کا ڈیفالٹر قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق یہ فیصلہ ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن (P&D)، سی ڈی اے کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور یہ ’without prejudice‘ ہے۔