کراچی اور سندھ میں بنیادی مسائل برقرار، پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر شہری پھٹ پڑے

کراچی اور سندھ میں بنیادی مسائل برقرار، پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر شہری پھٹ پڑے

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل عرصے سے جاری حکمرانی کے باوجود کراچی کے شہری بنیادی سہولتوں کی صورتحال پر شکوہ کناں دکھائی دیتے ہیں۔ شہر میں پانی کی قلت کچرے کے ڈھیر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ناقص نکاسی آب، پبلک ٹرانسپورٹ کی مشکلات، صحت و تعلیم کی سہولتوں اور امن و امان سے متعلق مسائل شہریوں کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔

عوامی سروے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا شہر ہے لیکن اس کے باوجود متعدد علاقوں میں لوگوں کو بنیادی شہری سہولتوں کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ جہاں پانی دستیاب ہے وہاں بھی فراہمی کے نظام لائنوں اور نکاسی آب سے متعلق شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

صفائی کی صورتحال پر بھی شہری سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق مختلف علاقوں میں کچرا بروقت نہ اٹھائے جانے کے باعث گلیوں، سڑکوں اور خالی پلاٹوں میں کچرے کے ڈھیر جمع ہوجاتے ہیں، جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ تعفن اور دیگر مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

نکاسی آب کا نظام بھی شہریوں کی شکایات میں نمایاں ہے۔ بارش کے دوران کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے، سیوریج لائنوں کی خرابی اور کھلے مین ہولز کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہری سوال اٹھاتے ہیں کہ برسوں سے جاری حکومت اور بڑے ترقیاتی بجٹ کے باوجود نکاسی آب کا مستقل نظام کیوں نہیں بنایا جاسکا۔

سڑکوں کی صورتحال بھی عوامی شکایات کا اہم موضوع ہے۔ کئی علاقوں میں ٹوٹی سڑکیں، گڑھے، غیر ضروری کھدائی اور ترقیاتی کاموں کی تکمیل میں تاخیر شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے۔ شہریوں کے مطابق روزانہ سفر کرنے والے افراد کو وقت کے ضیاع کے ساتھ گاڑیوں کی مرمت کے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی اور پھیلاؤ کے مقابلے میں سفری سہولتیں ناکافی ہیں۔ روزانہ لاکھوں افراد کو کام، تعلیم اور کاروبار کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے جبکہ مناسب اور آرام دہ سفری سہولت ہر شہری کو میسر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وزیراعظم کا اظہارِ تشکر

صحت کے شعبے میں بھی سرکاری اسپتالوں میں رش، سہولتوں کی کمی، ادویات اور عملے سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے معیاری اور بروقت علاج کی سہولت انتہائی اہم ہے اور اس شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

تعلیم کے حوالے سے بھی شہری سوالات اٹھاتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں، عمارتوں، فرنیچر، اساتذہ اور تعلیمی معیار سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے بچوں کو یکساں اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

امن و امان بھی کراچی کے شہریوں کے لیے اہم مسئلہ ہے۔ اسٹریٹ کرائم، موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات سمیت جرائم کے خدشات شہری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ لوگ بلاخوف اپنے کاروبار اور روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

کراچی کے رہائشی عمران صدیقی کا کہنا ہے کہ پانی اور صفائی جیسے مسائل کسی بھی بڑے شہر کے لیے بنیادی نوعیت کے ہیں، لیکن شہری اب بھی ان مسائل کے مستقل حل کے منتظر ہیں۔

سائرہ خان کے مطابق شہر میں کچرا اور گندگی صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت اور ماحول سے بھی براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے صفائی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

عبدالرحمن قریشی کا کہنا ہے کہ ٹوٹی سڑکوں اور ٹریفک کے مسائل نے روزانہ سفر کرنے والوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے نتائج شہریوں کو واضح طور پر نظر آنے چاہئیں۔

نادیہ فاطمہ کے مطابق عام شہری کے لیے اچھا سرکاری اسپتال اور معیاری سرکاری اسکول سب سے اہم ضرورت ہیں، اس لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر مزید توجہ دی جانی چاہیے۔

محمد زبیر کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے جدید اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ ناگزیر ہے، کیونکہ روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو طویل فاصلے اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔

فیضان احمد کے مطابق امن و امان بہتر ہوگا تو کاروباری سرگرمیوں اور شہری زندگی دونوں میں بہتری آئے گی، اس لیے جرائم کی روک تھام کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

شہریوں کا مجموعی مطالبہ ہے کہ کراچی اور سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کے ساتھ ان کے عملی نتائج بھی یقینی بنائے جائیں۔ ان کے مطابق پانی، صفائی، نکاسی آب، سڑکیں، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور امن و امان جیسے مسائل کے مستقل حل کے بغیر شہر کی ترقی کا مقصد مکمل نہیں ہوسکتا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles