خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران پولیس لائن مسجد کے قریب زور دار دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید جبکہ 57 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج نے بارود سے بھری گاڑی سے پرانی پولیس لائنز کی مسجد اور سی ٹی ڈی دفتر کے درمیان دھماکہ کیا ، دھماکے کے بعد مسلح دہشتگردوں کیساتھ پولیس اور فوج کے دستے کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے جبکہ اس دوران سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 3 خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا ہے ، ان تینوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔
پولیس کے مطابق دھماکے سے مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی ، دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے ، ریسکیو 1122 کے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 30 سے زائد زخمیوں اور جاں بحق افراد کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے۔
جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں ، جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔
افواج پاکستان کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے
دھماکے کے بعد پاک فوج کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں ۔
🚨کوہاٹ خودکش دھماکہ، افواجِ پاکستان کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، علاقے کا محاصرہ کرکے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔@SohailAfridiISF pic.twitter.com/OqdyZOjOKR
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) September 18, 2026


