خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائن مسجد کے قریب زور دار دھماکے میں 15 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد اور سی ٹی ڈی (CTD) آفس کو ایک خودکش بمبار (VBSB) نے نشانہ بنایا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا جس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، دھماکے سے مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی ، دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ریسکیو 1122 کے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 30 سے زائد زخمیوں اور 15 جاں بحق افراد کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے۔
جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں ، جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔
افواج پاکستان کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے
پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیاجارہاہے جبکہ فوج کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے ۔
وزیراعظم کی دھماکے کی مذمت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔