چاند کی سطح پر ایک حیران کن دریافت نے ماہرین فلکیات کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ ناسا کے خلائی مشن نے چاند کے قریب والے حصے پر ایک ایسا وسیع گڑھا دریافت کیا ہے جو روم کے تاریخی کولوزیم سے بھی بڑا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ گڑھا تقریباً 728 فٹ چوڑا اور 141 فٹ گہرا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ گڑھا تقریباً دو سال قبل ایک زوردار خلائی تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا، لیکن اس وقت اس واقعے کو براہ راست کسی دوربین یا خلائی مشن نے ریکارڈ نہیں کیا تھا۔
نایاب خلائی تصادم، صدی میں ایک بار ہوتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر اس نوعیت کا بڑا تصادم اوسطاً تقریباً ہر 132 سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے، اسی لیے اس دریافت کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ناسا چاند پر مستقبل میں خلابازوں کے لیے مستقل اڈہ قائم کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ماہرین کے مطابق چاند کی سطح پر ہونے والے ایسے واقعات کو سمجھنا مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
ناسا کے لونر ریکائسنس آربیٹر نے مئی 2024 میں چاند کے قریب والے حصے کی تصاویر حاصل کیں، جن میں یہ نیا گڑھا سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ یہ گڑھا کسی شہاب ثاقب یا دمدار ستارے کے ٹکڑے کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں بنا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصادم کو زمین یا خلا میں موجود دوربینیں اس وقت براہ راست دیکھ نہیں سکیں۔ابتدائی تصاویر اگست 2025 تک موجود ڈیٹا میں محفوظ رہیں، جس کے بعد ماہرین نے مزید تفصیلی تصاویر حاصل کیں۔ رواں سال کے آغاز میں تحقیق کے بعد اس گڑھے کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔
اس نئے گڑھے کو سابق ماہر فلکیات تھامس میگچن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گڑھا اس سے پہلے دریافت کیے گئے ریکارڈ ہولڈر گڑھے سے تقریباً تین گنا بڑا ہے۔
تحقیق کے مطابق خلائی تصادم اتنا طاقتور تھا کہ اس نے چاند کی سطح کو تقریباً 100 کلومیٹر کے علاقے تک متاثر کیا۔ تصادم کے نتیجے میں مٹی اور چٹانوں کے ذرات توقع سے کہیں زیادہ فاصلے اور مختلف زاویوں میں اچھلے۔ ماہرین نے گڑھے کے اردگرد تقریباً 7 کلومیٹر چوڑا ایک سرد علاقہ بھی دریافت کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں سطحی مٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی۔
ماہرین نے اس عمل کو باغبانی سے تشبیہ دی ہے، جہاں زمین کو کھودنے کے بعد مٹی کی تہیں اوپر نیچے ہوجاتی ہیں۔ چاند کی سطح پر موجود یہ نیا نشان نہ صرف ایک نایاب خلائی تصادم کی گواہی دے رہا ہے بلکہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ خلائی اجسام کے ٹکراؤ سے چاند کی سطح کس طرح تبدیل ہوتی ہے۔