لاہور سے اسکردو تک دوڑ، فیضان احمد نے 1100 کلومیٹر کا مشکل چیلنج مکمل کرلیا

لاہور سے اسکردو تک دوڑ، فیضان احمد نے 1100 کلومیٹر کا مشکل چیلنج مکمل کرلیا

جی سی یونیورسٹی لاہور کے طالب علم اور فالکن ٹرائیتھلون کلب کے رکن فیضان احمد نے ایک غیر معمولی رننگ چیلنج مکمل کرلیا۔

فیضان نے لاہور سے اسکردو تک تقریباً 1100 کلومیٹر کا فاصلہ 22 روز میں دوڑ کر طے کیا اور آج اسکردو پہنچ کر اپنے طویل سفر کا اختتام کیا۔ ان کا یہ سفر پنجاب کے میدانی علاقوں سے شروع ہوا اور خیبرپختونخوا کے بعد گلگت بلتستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا رونالڈو النصر کو خیرباد کہنے والے ہیں؟ وجہ سامنے آگئی

فیضان کے رننگ سفر میں ناران، بابوسر ٹاپ، چلاس اور رائے کوٹ سمیت کئی مشکل مقامات شامل تھے۔اس دوران انہیں طویل فاصلے طے کرنے کے ساتھ مسلسل چڑھائیوں، دشوار گزار راستوں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 22 روز تک جاری رہنے والے اس چیلنج میں فیضان نے مجموعی طور پر 1100 کلومیٹر کا فاصلہ مکمل کیا۔

فیضان احمد نے اپنے اس غیر معمولی رننگ سفر کو پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس کے شہدا کے نام کیا۔انہوں نے ملک کے لیے جان قربان کرنے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے سفر کو ان کی قربانیوں سے منسوب کیا۔

فیضان کے چیلنج کا مقصد صرف طویل فاصلہ طے کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے معاشرے میں ایک اہم پیغام بھی اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے اپنے سفر کے دوران منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی پھیلائی اور نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

راستے میں آنے والی مختلف آبادیوں اور کمیونٹیز تک بھی فیضان نے منشیات کے خلاف آگاہی کا پیغام پہنچایا۔ لاہور سے اسکردو تک یہ 22 روزہ سفر فیضان احمد کی جسمانی برداشت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی پیغام کو عام کرنے کی کوشش بھی بن گٓیا۔ٓ

editor

Related Articles