سعودی عرب میں ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر دارالحکومت ریاض اور قریبی شہر الخرج میں ہنگامی الرٹ جاری کردیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد سعودی سول ڈیفنس نے دونوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا۔ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان حملوں میں حالیہ دنوں کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے۔
سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض اور الخرج میں ممکنہ خطرے سے متعلق شہریوں کو خبردار کیا اور سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ الرٹ کے دوران شہریوں کو کھلے مقامات، شیشے والی کھڑکیوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے کا کہا گیا، جبکہ بیرونِ عمارت موجود افراد کو قریبی عمارت میں پناہ لینے یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے رہنے کی ہدایت کی گئی۔
ریاض میں الرٹ جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے الرٹ کے وقت خطرے کی نوعیت کی فوری طور پر تفصیلی وضاحت نہیں کی گئی۔
ریاض اور الخرج کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے فرسان میں بھی ممکنہ خطرے سے متعلق وارننگ جاری ہوئی، جس کے بعد وہاں بھی شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی۔
اس سے قبل جمعہ کی رات سعودی عرب کے متعدد شہروں اور علاقوں میں اسی نوعیت کے الرٹس جاری کیے گئے تھے۔ جدہ، طائف، ینبوع، خمیس مشیط، العلا، جازان اور ابہا میں شہریوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا، تاہم بعد میں سعودی سول ڈیفنس نے ان علاقوں میں بھی خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا۔
حالیہ الرٹس ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب سعودی عرب اور یمن میں حوثی گروپ کے درمیان سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات سعودی شہروں اور اہم تنصیبات کے قریب بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جمعرات کو طائف کے علاقے میں ایک حوثی ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے روک کر تباہ کیا تھا، جس کے ملبے سے ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی۔
سعودی حکام نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری طور پر ایسے مقامات پر جمع نہ ہوں جہاں ممکنہ خطرہ موجود ہو سول ڈیفنس نے الرٹ کے دوران شہریوں کو فلم بندی اور خطرناک مقامات کے قریب جانے سے بھی گریز کرنے کا کہا۔
دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ نے شہریوں اور مقیم افراد کو سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر کسی بھی خبر، پیغام یا معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر اعتماد کیا جائے۔
تازہ صورتحال میں ریاض اور الخرج کے لیے جاری ہونے والا الرٹ ختم کردیا گیا ہے تاہم سعودی عرب میں حالیہ سکیورٹی واقعات کے باعث شہریوں کو سرکاری ہدایات پر مسلسل عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کے لیے سکیورٹی صورتحال حساس ہوگئی ہے، جبکہ یمن میں جاری لڑائی کے اثرات سرحدی علاقوں سے آگے سعودی شہری آبادی اور اہم تنصیبات تک پہنچنے کے خدشات بھی بڑھا رہے ہیں۔