27 ستمبر کا مارچ سہیل آفریدی کی سیاسی موت ثابت ہوگا: سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی

27 ستمبر کا مارچ سہیل آفریدی کی سیاسی موت ثابت ہوگا: سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی

معروف تجزیہ کار مزمل سہروردی نے پوڈکاسٹ  ’’آزاد سیاست‘‘  میں عدیل آصف سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کے متوقع احتجاج، سندھ حکومت کی کارکردگی، سفارتی امور اور آئینی اصلاحات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا ہے۔

مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ’’عمران خان آ رہا ہے‘‘  محض ایک سیاسی نعرہ ہے جیسے 70 سال سے’’بھٹو زندہ ہے‘‘  کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا احتجاج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے سیاسی امتحان ہے؛ وہ یہ مارچ کریں یا نہ کریں، وہ ’’عشقِ عمران‘‘  میں اپنی سیاسی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

 انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرے میں بدامنی یا جانی نقصان ہوا تو تمام تر ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے چوتھی بار سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مرکز پر حملہ آور ہونا آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور ریاست کو اب اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ صوبے کی پولیس کے پاس گاڑیاں اور ہتھیار نہیں ہیں، صحت اور تعلیم کی سہولیات ناپید ہیں، لیکن تحریک انصاف کے سیاسی جلسوں، وکلاء کی فیسوں اور من پسند یوٹیوبرز کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے 50، 50 لاکھ روپے کے چیک بانٹے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے اسلام آباد احتجاج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی قیمت پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

مزمل سہروردی نے صحافی اور تجزیہ کار کا فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کا کام حقائق اور سچائی پر مبنی خبر دینا ہے جبکہ تجزیہ کار کی اپنی رائے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی عمران خان سے ملنا نہیں چاہتے، محسن نقوی سے دوستی ہے، مزمل سہروردی

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ اینکر پرسن معید پیرزادہ سابق اسٹیبلشمنٹ اور جنرل فیض کے بینیفشری رہے ہیں، جنہوں نے فیض کے دور میں 19 کروڑ روپے کے اشتہارات حاصل کیے اور بیرونِ ملک سے بھی وہ انہی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

 انہوں نے طارق متین جیسے صحافیوں کے ٹویٹس اور مشوروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صحافی تجزیہ نگاری کے نام پر مکمل طور پر سیاسی فریق بن چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 18 سالہ مسلسل حکمرانی کے باوجود سندھ میں 5 کروڑ آبادی میں سے 50 فیصد لوگ علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور 7.5 ملین (75 لاکھ) بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

 انہوں نے پنجاب کے ترقیاتی ماڈل اور کراچی میں کرائم ریٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی دیہی سندھ کے اقتدار کے بل بوتے پر شہری سندھ پر مسلط ہے لیکن اب وہاں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ بلاول بھٹو کے دورہ یورپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو لندن سے یورپ کے کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں اور وہ پاکستان کی سیاسی آگ ٹھنڈی ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جسے فی الحال آصف علی زرداری سنبھال رہے ہیں۔

مزمل سہروردی نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر کے مہینے میں ملک بھر میں نئے چھوٹے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کا سوال منظور ہو جائے گا۔ اس ریفرنڈم کے بعد تمام صوبوں کی عوامی رائے سامنے آئے گی جس کے نتیجے میں ملک میں 4 کے بجائے 32 وزرائے اعلیٰ بن سکتے ہیں، جس سے اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی اور سیاست میں نیا خون شامل ہوگا۔

سیاسی رہنماؤں کی اخلاقیات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2018 سے قبل عمران خان نے خیبر پختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر بطور ٹیکسی استعمال کیا جس پر ان کے خلاف نیب کا ریفرنس قائم ہوا، مگر وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے قوم کے پیسے واپس کرنے کے بجائے نیب سے اپنے خلاف ریفرنس ختم کرایا۔ دوسری جانب مریم نواز نے اپنے ہیلی کاپٹر استعمال کے 3.5 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے ہیں، جو کمپیریٹو انالیسس (تقابلی جائزے) میں اخلاقی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔

Related Articles