جنید اکبر اور پی ٹی آئی تشدد اور خونریزی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، عطا تارڑ

جنید اکبر اور پی ٹی آئی  تشدد اور خونریزی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان سے ملک میں افراتفری اور تباہی پیدا کرنے کے ارادے کا تاثر ملتا ہے۔ 

عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس‘ پر جاری بیان میں جنید اکبر کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا،ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما پُرامن احتجاج کے بجائے تشدد اور خونریزی کی طرف جانے کی بات کر رہے ہیں،وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال، روزگار اور معمولاتِ زندگی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت احتجاج کے معاملے پر اپنی پالیسی واضح کر چکی ہے اور اسلام آباد میں ایسے احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے قانون کی خلاف ورزی یا شہریوں کی زندگی متاثر ہوان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی دباؤ کے تحت مطالبات تسلیم نہیں کرے گی اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہوگا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کی کال دی گئی ہے۔ پارٹی رہنما جنید اکبر نے بھی کارکنوں سے متحرک ہونے اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے حوالے سے بیانات دیے ہیں اور کہا ہے کہ ہم اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے ،دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 27 ستمبر کا احتجاج پُرامن ہوگا اور دارالحکومت پر قبضے یا کسی قسم کے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان احتجاج کے معاملے پر مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون اور عدالتی احکامات کی پابندی ضروری ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کا حق استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے۔

عطا تارڑ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری عوام کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا ہے، جبکہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کو بھی قانونی حدود میں رہنا چاہیے۔

editor

Related Articles