وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہم پانچ دھائیاں افغانوں کو پناہ دی، اپنے محدود وسائل میں حصہ دار بنایا۔ نیٹو فوج کے چلے جانے کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کیا، امید رکھی یہ ہماری سرحد محفوظ ہو گی، ہمسائے امن سے رہیں گے۔
مگر ہماری مسجدوں، سکولوں، بازاروں میں دہشت گردی کرنے والے، ہماری فوج پہ حملہ کرنے والے 70/80 فیصد افغان ہوتے ہیں۔ ہمارے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کے ساتھ یکجہتی دکھا رہے ہیں۔
میں اور فوجی اور سولین قیادت کے ڈائریکٹ و ان ڈائریکٹ رابطے مسلسل چل رہے ہیں، مگر افغانوں کی نفرت اور دشمنی میں کمی نہیں آئی،یہ طلبا افغانی طلبا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے سیاسی رجحانات کا مظہر ہے۔
جب پانچ دھائیوں کی پناہ اور ساری دنیا کی گالیاں اور وسائل پہ پرورش ان کے ذہنی رجحانات نہیں تبدیل کرسکے، تو ان کے حمایتیوں کو کوشش کرکے خیر سگالی کے لئے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ پاکستانی طلبا اس شہداء کے خون کی توہین کر رہے ہیں جو افغانستان سے آنے والے دہشت گرد کے ہاتھوں ہمارے شہداء کا بہہ رہا ہے،ایک سیاسی پارٹی کی محبت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ پاکستانی خون آپ کو سستا لگے۔
ھم پانچ دھائیاں افغانوں کو پناہ دی اپنے محدود وسائل میں حصہ دار بنایا۔ نیٹو فوج کے چلے جانے کے بعد نیک خواھشات کا اظہار کیاامید رکھی یہ ھماری سرحد محفوظ ھو گی ۔ ھمسائے امن سے رہیں گے ۔ مگر ھماری مسجدوں سکولوں بازاروں میں دھشت گردی کرنے والے ھماری فوج پہ حملہ کرنے والے 70/80فیصد… https://t.co/yZnbKqau0T
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 20, 2026


