پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل فرمائشی گرفتاریوں اور حراستوں کا سلسلہ تیز ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی طرف سے گرفتاری دئیے جانے کے بعد رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل نے گرفتاری دی جبکہ نورین نیازی کی جانب سے بھی گرفتاری دے دی گئی ہے۔
27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے ایک ہفتہ قبل علیمہ خان نے لاہور میں گرفتاری دی انہیں ان کی فرمائش پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے علیمہ خان کی فرمائشی گرفتاری پر شدید ردعمل دیا گیا اور پارٹی رہنماؤں نے اسے 27 ستمبر کے احتجاج سے جوڑتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔
علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی طرف سے فرمائشی گرفتاریوں کی اطلاعات مزید سامنے آنے لگی ہیں۔
اب رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل کی فرمائشی گرفتاری کی اطلاعات نے سیاسی صورتحال میں مزید ہلچل پیدا کردی ہے۔ پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق ثناء اللہ مستی خیل نے بھی گرفتاری دے دی ہے ۔
اسی دوران عمران خان کی بہن نورین نیازی کی جانب سے بھی گرفتاری دی گئی ہے ،نورین نیازی کی ممکنہ گرفتاری دئیے جانے کی اطلاع نے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے ۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے، پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج سیاسی اور پُرامن ہوگا، جبکہ حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہ دینے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔