امریکی صدر ٹرمپ  نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف بڑا فیصلہ کر لیا

امریکی صدر ٹرمپ  نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف بڑا فیصلہ کر لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران متوقع ہے۔

آئی سی سی کے مالی معاملات متاثر ہونے کا امکان

مجوزہ امریکی پابندیوں کے تحت عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ متعدد مالی اور تجارتی لین دین محدود کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم پابندیوں کے نفاذ سے قبل کئی ماہ کی مہلت دیے جانے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کے خلاف سکھ کمیونٹی نے عالمی عدالت سے رجوع کر لیا

امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو عدالت کو فنڈز، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے بھی روکا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے امریکی محکمہ خزانہ سے خصوصی اجازت درکار ہوسکتی ہے۔

امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کا معاملہ

ممکنہ پابندیوں کے باعث آئی سی سی کے امریکی ڈالر میں ہونے والے لین دین بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ امریکی مالیاتی نظام سے منسلک بینک عدالت کے ساتھ لین دین محدود کرسکتے ہیں۔

آئی سی سی کے حکام کے مطابق ادارے کو براہ راست نشانہ بنانے والی پابندیاں اس کی روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں آئی ٹی سروسز، انشورنس اور مالی لین دین شامل ہیں۔

نیتن یاہو کے وارنٹ بھی اہم وجہ

امریکی انتظامیہ اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی اس وقت نمایاں ہوئی جب عدالت نے 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔

 یہ بھی پڑھیں :انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے اسرائیلی وزیر بے بس، بن گویر کو گرفتاری کا ڈر، دورہ امریکا پھر منسوخ

یہ وارنٹ غزہ سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تناظر میں جاری کیے گئے تھے۔ اسرائیل اور امریکا نے عدالت کے اس اقدام کو مسترد کیا تھا۔

امریکا آئی سی سی کا رکن نہیں

امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔ آئی سی سی 2002 میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کیلئے قائم کی گئی تھی۔

عدالت مخصوص حالات میں ایسے معاملات میں کارروائی کرسکتی ہے جہاں متعلقہ قومی نظام سنگین جرائم کی تحقیقات یا مقدمہ چلانے کے قابل یا آمادہ نہ ہو۔

editor

Related Articles