بچپن کا ایک دن لمبا، جوانی کا ایک سال مختصر، آخر ایسا کیوں؟

بچپن کا ایک دن لمبا، جوانی کا ایک سال مختصر، آخر ایسا کیوں؟

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ بچپن کے دن بہت لمبے لگتے تھے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ دن، ہفتے اور سال جیسے تیزی سے گزرنے لگے ہیں؟ ایسا محسوس ہونا صرف آپ کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق گھڑی کی رفتار تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ عمر کے ساتھ انسانی دماغ کا وقت کو محسوس کرنے کا انداز بدل سکتا ہے۔

2019 میں کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گھڑی کے مطابق گزرنے والے وقت اور انسان کے ذہنی طور پر محسوس کیے جانے والے وقت کے درمیان فرق کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑی کی نمبرپلیٹ نے امریکی شہری کو کروڑپتی بنا ڈالا

بچپن میں ایک سال بڑا کیوں لگتا ہے؟

اس کی ایک ممکنہ وجہ تناسب کا نظریہ ہے۔ مثال کے طور پر 10 سال کے بچے کے لیے ایک سال اس کی اب تک کی زندگی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے، جبکہ 50 سال کی عمر میں ایک سال پوری زندگی کا صرف تقریباً 2 فیصد رہ جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ہر نیا سال ہماری مجموعی زندگی کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔

نئی چیزیں وقت کو لمبا محسوس کرا سکتی ہیں

بچپن میں تقریباً ہر دن کچھ نیا ہوتا ہے۔ نئے لوگ، نئی جگہیں، نئی سرگرمیاں اور نئے تجربات دماغ میں زیادہ منفرد یادیں بناتے ہیں۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی میں معمولات بڑھ سکتے ہیں۔ ایک ہی طرح کے کام، وہی راستے اور ملتے جلتے دن دماغ میں الگ الگ یادوں کے طور پر محفوظ نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو کئی ہفتے یا مہینے ایک ہی دور کا حصہ محسوس ہوتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر گیا۔

مصروفیت بھی وقت کا احساس بدل دیتی ہے

ماہرین کے مطابق ہماری توجہ بھی وقت کے احساس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب انسان کسی کام میں پوری طرح مصروف ہو تو اس کی توجہ گھڑی دیکھنے کے بجائے کام پر مرکوز رہتی ہے۔ اسی لیے کئی گھنٹے کسی مصروف دن میں بہت مختصر محسوس ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس انتظار یا بوریت کے دوران انسان بار بار وقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، جس سے چند منٹ بھی زیادہ طویل محسوس ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پائلٹ کا انوکھا کارنامہ، طیارے کے راستے سے مونا لیزا کا اسکیچ بنا دیا

جذبات بھی وقت کو بدل دیتے ہیں

خوشی، حیرت، خوف یا کسی بڑے واقعے سے جڑی یادیں عموماً زیادہ واضح ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلسل ایک جیسے معمولات، تھکن اور بوریت والے دن ایک دوسرے سے ملتے جلتے محسوس ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کئی مہینے یا سال بہت جلد گزر گئے۔

ڈوپامین کا بھی کردار ہوسکتا ہے

ماہرین نے دماغ میں موجود کیمیائی مادے ڈوپامین کو بھی وقت کے ادراک سے جوڑا ہے۔ ڈوپامین تحریک، انعام اور دماغ کے کئی دوسرے عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ عمر کے ساتھ دماغی عمل اور ڈوپامین کی سطح میں ہونے والی تبدیلیاں بھی وقت کے احساس پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

کیا وقت کو دوبارہ ’سست‘ محسوس کیا جاسکتا ہے؟

وقت کی اصل رفتار تبدیل نہیں کی جاسکتی، لیکن زندگی میں نئے تجربات شامل کرنے سے دن زیادہ بھرپور محسوس ہوسکتے ہیں۔ نئی جگہوں پر جانا، نئی سرگرمیاں سیکھنا، تخلیقی کام کرنا، نئے لوگوں سے ملنا اور معمول سے ہٹ کر تجربات کرنا ایسی یادیں پیدا کرسکتا ہے جو وقت کو ذہنی طور پر زیادہ نمایاں بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مچھر اڑ نہیں سکیں گے، فرانس کے قصبے میں عجیب و غریب حکم جاری

کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنف اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر ایڈرین بیجان کے مطابق نئے اور حیرت انگیز تجربات، نئے خیالات اور تخلیقی سرگرمیاں وقت کے احساس کو زیادہ بھرپور بنا سکتی ہیں۔

یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ وقت کا تیزی سے گزرنا محض ایک احساس نہیں بلکہ یادداشت، توجہ، جذبات، تجربات اور دماغی عمل کے درمیان پیچیدہ تعلق سے جڑا ہوسکتا ہے۔

editor

Related Articles