ایران امریکا کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوگئے ہیں جبکہ ان کے امریکا روانہ ہونے کے فوراً بعد پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے دونوں اہم سفارتی سرگرمیوں کو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی کا نیویارک سفر ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عراقچی نیویارک جانے سے قبل قطر میں مختصر قیام کرکے علاقائی صورتحال پر مشاورت بھی کریں گے، جبکہ قطر امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ کاری میں کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب محسن نقوی کے دورۂ ایران میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے ساتھ خطے کی مجموعی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دورے کا بنیادی محور دوطرفہ امور اور باہمی تعلقات ہیں اگرچہ موجودہ علاقائی حالات کے باعث ملاقاتوں میں وسیع تر علاقائی صورتحال بھی اہم موضوع ہوسکتی ہے۔
یوں ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ امریکا میں سفارتی سرگرمیوں کے لیے موجود ہوں گے اور دوسری جانب پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد تہران میں ایرانی قیادت سے رابطے کرے گا، جس سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تاہم فی الحال کسی جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔