عام طور پر لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات یا دوستوں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، لیکن ایران میں ان دنوں ایک مختلف قسم کا ٹرینڈ توجہ حاصل کر رہا ہے۔
ایرانی صارفین انڈے ہاتھ میں پکڑ کر یا شاپر میں رکھ کر تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ رجحان بڑھتی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک علامتی اور طنزیہ احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق تہران میں ایک انڈے کی قیمت تقریباً 4 ہزار 600 سے 8 ہزار تومان تک بتائی جا رہی ہے۔ایک تازہ تجزیے کے مطابق 2017 سے مئی 2026 تک ایران میں انڈوں کے قیمت انڈیکس میں 51 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یعنی جو چیز کبھی روزمرہ خوراک کا عام حصہ سمجھی جاتی تھی، اس کی بڑھتی قیمت اب ایرانی صارفین کے لیے مہنگائی کی علامت بن گئی ہے۔
ایرانی شہری صرف انڈوں کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ چاول، کھانا پکانے کے تیل، مرغی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران میں چاول اور انڈوں کی قیمتیں تقریباً تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔
ایرانی سوشل میڈیا پر صارفین مہنگائی کے اثرات مختلف انداز میں دکھا رہے ہیں۔ کئی افراد روزمرہ خریداری کی رسیدیں، اشیائے خورونوش اور بازار سے خریداری کی ویڈیوز شیئر کرکے اپنی قوت خرید میں کمی کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔ نانڈوں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی اسی رجحان کا حصہ ہیں، جنہیں صارفین مہنگائی پر طنزیہ انداز میں ردعمل دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پابندیوں، ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی، جنگی حالات اور طویل عرصے سے جاری مہنگائی نے ایرانی گھرانوں پر معاشی دباؤ بڑھایا ہے۔ جون 2026 کی ایک رپورٹ میں ایران کی سالانہ افراط زر کی شرح 77.2 فیصد تک پہنچنے کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔
یوں سوشل میڈیا پر انڈوں کے ساتھ بنائی جانے والی یہ تصاویر محض ایک نیا ٹرینڈ نہیں بلکہ بڑھتی قیمتوں اور کم ہوتی قوت خرید کی طرف توجہ دلانے کا ایک علامتی انداز بھی بن گئی ہیں۔