ایران سے منسلک گروپ نے امریکی فوج کی معلومات کے لیے اے آئی استعمال کرلیا

ایران سے منسلک گروپ نے امریکی فوج کی معلومات کے لیے اے آئی استعمال کرلیا

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کے غلط استعمال سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے مطابق ایران سے منسلک ایک گروپ نے اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ممکنہ کمزوریوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا۔

اینتھروپک کی ستمبر 2026 کی تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق گروپ نے عوامی طور پر دستیاب معلومات کو اکٹھا کرکے امریکی بحری جہازوں اور خطے میں موجود فوجی سرگرمیوں سے متعلق ڈیٹا مرتب کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کلاڈ کی مدد سے امریکی بحری افواج کے مقامات کا سراغ لگانے کے لیے اوپن سورس معلومات، فوجی تصاویر، جہازوں اور طیاروں کے ٹرانسپونڈر ڈیٹا اور کمرشل سیٹلائٹ امیجری سے متعلق معلومات استعمال کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:جیمینائی اے آئی کا سائبر سکیورٹی ٹیسٹ، تین ویب سائٹس تک رسائی کا واقعہ سامنے آگیا

گروپ نے جہازوں کے مواصلاتی نظام اور دیگر متعلقہ ٹیکنالوجی میں موجود معلوم سکیورٹی کمزوریوں سے متعلق معلومات بھی جمع کیں۔ اینتھروپک کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد امریکی بحری افواج کے خلاف ممکنہ ہدف بندی کے لیے معلومات تیار کرنا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اس سرگرمی کا سراغ لگانے کے بعد متعلقہ کلاڈ اکاؤنٹ کو بند کردیا اور مستقبل میں اس نوعیت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اپنے حفاظتی نظام میں مزید بہتری کی۔

اینتھروپک نے اپنی رپورٹ میں ایران سے منسلک دیگر سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا ہے، جن میں نگرانی، سائبر سرگرمیاں اور اوپن سورس معلومات کے ذریعے افراد کی پروفائلنگ شامل ہے۔

میڈیا رپورٹ میں ایسے دیگر واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں اے آئی کو روایتی ہتھیاروں کی تیاری، نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:جیمینائی اے آئی کا سائبر سکیورٹی ٹیسٹ، تین ویب سائٹس تک رسائی کا واقعہ سامنے آگیا

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہیں پیچیدہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی سرگرمیوں میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق ایسے استعمال کی روک تھام کے لیے اے آئی کمپنیوں، حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور مضبوط حفاظتی نظام ضروری ہیں۔

editor

Related Articles