غیر اے سی کے ٹھنڈا رہنے والا ہوا محل، راز سامنے آگیا

غیر اے سی کے ٹھنڈا رہنے والا ہوا محل، راز سامنے آگیا

بھارت کی ریاست راجستھان کے تاریخی شہر جے پور میں واقع ہوا محل راجپوت فن تعمیر کا ایک منفرد شاہکار ہے۔ 1799 میں مہاراجہ سوائی پرتاپ سنگھ نے تعمیر کروایا گیا یہ محل آج بھی اپنی خوبصورتی اور منفرد ڈیزائن کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔

گلابی پتھروں سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کا بیرونی حصہ پانچ منزلہ اہرام جیسا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی سب سے نمایاں خصوصیت سامنے کی دیوار پر بنی 953 چھوٹی کھڑکیاں ہیں، جنہیں جھروکے کہا جاتا ہے۔

953 جھروکوں کا حیران کن ڈیزائن

ہوا محل کے جھروکوں پر انتہائی باریک جالی دار نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ ان کا ڈیزائن اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ ہوا ان چھوٹی کھڑکیوں سے تیزی سے گزر سکے۔ اس نظام کو عموماً وینچوری اثر سے جوڑا جاتا ہے، جس کے تحت ہوا کے بہاؤ میں تبدیلی پیدا ہونے سے اندرونی حصے میں نسبتاً ٹھنڈک محسوس ہوسکتی ہے۔ یوں شدید گرمی کے موسم میں بھی محل کے اندر ہوا کا گزر برقرار رہتا تھا، جبکہ اس دور میں پنکھے یا ایئر کنڈیشنر جیسی جدید سہولیات موجود نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:رات کے اندھیرے میں خود چمکنے والی سڑکیں، راز کیا ہے

شاہی خواتین کے لیے خاص ڈیزائن

ہوا محل کی تعمیر کا ایک اہم مقصد شاہی راجپوت خواتین کے پردے کے رواج سے بھی جڑا ہوا تھا۔ جھروکوں کی جالی دار ساخت اس طرح بنائی گئی تھی کہ شاہی خواتین محل کے اندر رہتے ہوئے باہر بازاروں، میلوں اور شاہی جلوسوں کا مشاہدہ کرسکتی تھیں، جبکہ باہر موجود لوگوں کے لیے اندر دیکھنا مشکل تھا۔

پانچ منزلیں، لیکن سیڑھیاں نہیں

ہوا محل کی ایک اور دلچسپ خصوصیت اس کی تعمیراتی ساخت ہے۔ پانچ منزلہ عمارت میں روایتی سیڑھیوں کے بجائے ڈھلوان راستے بنائے گئے تھے۔  ان راستوں کے ذریعے شاہی خواتین کی پالکیاں اوپر کی منزلوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ آج ہوا محل جے پور کی سب سے نمایاں شناختوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تعمیر قدیم فن تعمیر، ہوا کے بہاؤ اور شاہی طرز زندگی کے منفرد امتزاج کی مثال پیش کرتی ہے۔

editor

Related Articles