آج کون سے اسکول بند ہیں اور کون سے کھلے؟ بڑی اپ ڈیٹ آ گئی

آج کون سے اسکول بند ہیں اور کون سے کھلے؟ بڑی اپ ڈیٹ آ گئی

گزشتہ روز سامنے آنے والی خبر پر آج عملدرآمد ہوگیا، وفاقی دارالحکومت کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے آج 22 ستمبر سے بند کردیئے گئے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق سیاسی احتجاج اور مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے مختلف علاقوں سے آنے والی اضافی پولیس نفری کی رہائش کا انتظام ان تعلیمی اداروں میں کیا گیا ہے جس کے باعث مذکورہ اداروں میں تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رہیں گی۔

ذرائع کے مطابق جن اداروں کو بند رکھا گیا ہے ان میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے اسکول اور کالجز شامل ہیں۔ جی-6، ایف-6، ایف-7، جی-7، جی-8، جی-9، جی-10، جی-13، آئی-9 اور آئی-10 کے بعض تعلیمی اداروں کے علاوہ ترنول، سنجانی، سہالہ، بری امام، ملپور، ایچ-9 اور راول ڈیم کے بعض ادارے بھی فہرست میں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بند کیے گئے اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کیمپس نہیں آئیں گے جبکہ پرنسپلز اور غیر تدریسی عملہ معمول کے مطابق ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت کے تحت کام کرے گا۔ ان اداروں میں فی الحال تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کے لندن سفر کے اخراجات کتنے نکلے؟ اہم دستاویز سامنے آگئی

ذرائع کے مطابق ان اداروں کو عارضی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کے قیام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے گزشتہ روز جاری ہونے والی اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آن لائن کلاسز یا متبادل تعلیمی نظام کے حوالے سے تاحال کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے احتجاج اور مارچ کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے ہیں اور اہم شاہراہوں و داخلی راستوں پر کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔

تازہ صورتحال کے مطابق اسلام آباد کے تمام تعلیمی ادارے بند نہیں کیے گئے بلکہ صرف فہرست میں شامل 24 سرکاری اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں دیگر تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔

دوسری جانب راولپنڈی میں تعلیمی ادارے آج معمول کے مطابق کھلے ہیں اور وہاں عام تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تاہم والدین اور طلبہ کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ ان 24 اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں کب تک معطل رہیں گی۔ دستیاب رپورٹس میں بندش کی حتمی مدت واضح نہیں کی گئی، اس لیے آئندہ انتظامیہ یا محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات اہم ہوں گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles