آج دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی طیاروں کے لیے بند، امریکا کی بڑی پابندی پر عملدرآمد ؟

آج دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی طیاروں کے لیے بند، امریکا کی بڑی پابندی پر عملدرآمد ؟

امریکا نے ایرانی ایئرلائنز کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر فضائی آپریشن سے باہر کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق 23 ستمبر سے تمام ایرانی ایئرلائنز کو دنیا بھر میں بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ماہ 8 ستمبر کو ایران کے ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن کے تحت 27 ایرانی ایئرلائنز سمیت مجموعی طور پر 36 اہداف کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کے فضائی شعبے پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ایئرلائنز کو بیرونِ ملک آپریشن جاری رکھنے میں مدد دینے والی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ایئرپورٹ ایرانی طیاروں کو لینڈنگ سروس فراہم کرتا، ایندھن دیتا یا ٹکٹوں کی فروخت میں معاونت کرتا ہے تو اسے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں میں ایرانی ایوی ایشن سیکٹر سے منسلک غیرملکی کمپنیوں درمیانی اداروں اور ان نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن پر ایران کو طیارے پرزہ جات یا حساس ٹیکنالوجی کے حصول میں مدد دینے کا الزام ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کا فضائی شعبہ مبینہ طور پر اسلحہ، اہلکاروں اور غیر قانونی سامان کی منتقلی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا روانہ ، کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟

پابندیوں کے تحت امریکا نے بعض ایسی اجازتیں بھی معطل کردی ہیں جن کے ذریعے غیر امریکی ایئرلائنز کو امریکی ساختہ یا امریکی کنٹرول والے کمرشل طیاروں کے ذریعے ایران کے لیے پروازیں چلانے کی اجازت حاصل تھی ایران کی فضائی صنعت پہلے ہی کئی برس سے پابندیوں کے باعث نئے طیاروں اسپیئر پارٹس اور دیکھ بھال کی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر امریکا نے چین کے ساتھ بات چیت کی ہے ان کے مطابق چینی حکام کے ساتھ مالیاتی پابندیوں پر عملدرآمد سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ چین ایران کا اہم معاشی شراکت دار بھی ہے۔

امریکی اقدامات کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی بعض ایرانی ایئرلائنز نے جارجیا کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں جبکہ ترکیہ میں بھی مھان ایئر کی پروازوں کی معطلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یوں ایران کے خلاف امریکی دباؤ صرف مالی شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب فضائی سفر، ایئرپورٹ سروسز، ایندھن، ٹکٹنگ، طیاروں اور ایوی ایشن سپلائی چین تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے تاہم دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی طیاروں کے لیے بند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک نے الگ سے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کردیا ہے امریکی اقدام بنیادی طور پر پابندیوں اور ثانوی پابندیوں کے ذریعے ایرانی ایئرلائنز اور ان کے عالمی معاون نیٹ ورک کو روکنے کی کوشش ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles