2027 دنیا کے لیے کیسا ہوگا؟ حیران کن پیشگوئی سامنے آگئی

2027 دنیا کے لیے کیسا ہوگا؟ حیران کن پیشگوئی سامنے آگئی

2027 میں دنیا کا موسم کیسا ہوگا؟ ماہرین نے آنے والے سال کے حوالے سے ایک بڑے موسمیاتی خطرے سے خبردار کردیا ہے۔ موجودہ پیش گوئیوں کے مطابق بحرالکاہل میں بننے والا طاقتور ایل نینو آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور اس کے اثرات 2027 تک دنیا کے مختلف خطوں میں بارش خشک سالی درجہ حرارت اور زرعی پیداوار پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو اس وقت باقاعدہ طور پر قائم ہوچکا ہے اور وسطی و مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندری سطح کا درجہ حرارت معمول سے نمایاں زیادہ ہے۔ عالمی ادارے کے ماڈلز کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے، جبکہ اس دوران اس کی شدت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

امریکی نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے موسمیاتی مرکز کے مطابق موجودہ ایل نینو 2026 کے آخر اور 2027 کے ابتدائی مہینوں میں بہت مضبوط شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ستمبر کی پیش گوئی میں بہت مضبوط ایل نینو کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا گیا، جبکہ اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران تاریخی طور پر غیر معمولی شدت والے ایونٹ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ایل نینو دراصل بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری پانی کے غیر معمولی حد تک گرم ہونے سے پیدا ہونے والا موسمیاتی نظام ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور درجہ حرارت کے معمول کے پیٹرن تبدیل ہوسکتے ہیں۔ کہیں شدید بارشیں اور سیلاب آسکتے ہیں تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے کیا خطرہ ہے؟

موسمیاتی ماہرین کے مطابق ایل نینو کے اثرات ہر خطے میں ایک جیسے نہیں ہوتے، تاہم جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا ان خطوں میں شامل ہیں جہاں بارشوں کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم نے بھی خبردار کیا ہے کہ بہت مضبوط ایل نینو دنیا بھر میں بارش اور درجہ حرارت کے معمولات کو تبدیل کرسکتا ہے اور سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیا میں اس صورتحال کی خاص اہمیت ہے کیونکہ زراعت کا بڑا حصہ موسمی بارشوں اور دریائی پانی پر منحصر ہے۔ اگر کسی موسم میں بارشیں معمول سے کم رہیں تو پانی کے ذخائر، فصلوں اور بجلی کی پیداوار پر اثر پڑسکتا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر معمولی بارشیں شہری سیلاب اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بغیر ویزے کون سعودی عرب جا سکے گا ، عام پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟تفصیلات آ گئیں

تاہم کسی مخصوص ملک میں 2027 کے دوران کتنی بارش ہوگی یا خشک سالی کی شدت کیا ہوگی، اس کا حتمی فیصلہ ابھی ممکن نہیں۔ ایل نینو عالمی موسمی رجحانات کے امکانات کو تبدیل کرتا ہے، لیکن ہر علاقے میں اس کے اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔

خشک سالی، سیلاب اور فصلوں کو خطرہ

ایل نینو کے ممکنہ اثرات میں سب سے اہم خطرہ خوراک کی پیداوار کا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق اس موسمیاتی نظام کے باعث بعض خطوں میں خشک سالی، شدید گرمی اور بارشوں میں کمی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں سیلاب زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

خصوصاً مکئی، چاول اور بارش پر انحصار کرنے والی فصلیں موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کسانوں کی آمدنی متاثر ہونے کا خطرہ ہے بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔

49 ملین مزید افراد بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں

عالمی سطح پر سامنے آنے والی سب سے تشویشناک پیش گوئی خوراک کے بحران سے متعلق ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 2026-27 کا ایل نینو ان 45 ممالک میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد میں کم از کم 49 ملین کا اضافہ کرسکتا ہے۔

WFP کے تجزیے کے مطابق ان ممالک میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 225 ملین سے بڑھ کر 274 ملین ہوسکتی ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ اندازہ ان ممالک کے لیے ہے جو پہلے ہی غذائی عدم تحفظ، غربت یا دیگر بحرانوں سے دوچار ہیں۔

WFP کے مطابق سب سے زیادہ اثرات وسطی امریکا اور جنوبی افریقا کے بعض علاقوں میں متوقع ہیں، جبکہ مشرقی افریقا اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا بھی نمایاں خطرے والے خطوں میں شامل ہیں۔

کیا 2027 تاریخ کا گرم ترین سال بن سکتا ہے؟

عالمی درجہ حرارت پہلے ہی بلند سطح پر ہے اور مضبوط ایل نینو عموماً عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ موجودہ موسمیاتی ماڈلز 2026 کے آخر اور 2027 کے دوران غیر معمولی گرمی کے خطرے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ 2027 لازماً انسانی تاریخ کا گرم ترین سال ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت اور دیگر موسمی عوامل بھی عالمی درجہ حرارت کا تعین کرتے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم نے بھی ستمبر سے نومبر 2026 کے دوران تقریباً تمام زمینی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے امکانات کی نشاندہی کی ہے۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم شعبے زراعت، پانی، خوراک، بجلی اور صحت ہوں گے۔ اگر بارشوں کے معمول میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو فصلوں کی پیداوار اور پانی کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ شدید گرمی صحت کے لیے اضافی خطرات پیدا کرسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو کی پیش گوئی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ حکومتیں اور ادارے پہلے سے تیاری کرسکتے ہیں۔ عالمی خوراک پروگرام کا کہنا ہے کہ پیشگی اقدامات، جیسے موسمی نگرانی، پانی کا بہتر انتظام، فصلوں کی منصوبہ بندی اور ہنگامی امدادی نظام، ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یوں 2027 کے بارے میں سامنے آنے والی صورتحال کو کسی حتمی ’’تباہی کی پیش گوئی‘‘ کے بجائے ایک بڑے موسمیاتی خطرے کی پیشگی وارننگ کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔ موجودہ عالمی سائنسی پیش گوئیوں میں اس بات پر مضبوط اتفاق ہے کہ ایل نینو 2026 کے آخر میں بہت طاقتور ہوسکتا ہے اور اس کے اثرات 2027 تک محسوس ہونے کا امکان ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles