بغیر ویزے کون سعودی عرب جا سکے گا ، عام پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟تفصیلات آ گئیں

بغیر ویزے کون سعودی عرب جا سکے گا ، عام پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟تفصیلات آ گئیں

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے کے بعد اس سہولت سے مستفید ہونے والی کیٹیگریز اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی سرکاری روابط، سرکاری وفود کی آمدورفت اور ادارہ جاتی تبادلوں کو آسان بنانا ہے۔

کن افراد کو ویزا سے استثنیٰ ملے گا؟

معاہدے سے عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری براہِ راست مستفید نہیں ہوں گے۔ ویزا کی شرط ختم کرنے کی سہولت ان افراد کے لیے ہے جو پاکستان یا سعودی عرب کے سفارتی، سرکاری یا خصوصی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔

پاکستانی جانب سے اس میں بنیادی طور پر وہ سرکاری شخصیات اور حکام شامل ہوں گے جنہیں سفارتی یا سرکاری نوعیت کے پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے متعلقہ حکام پاکستان آمد کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اس کا عملی فائدہ خصوصاً ایسے اعلیٰ سطحی سرکاری وفود، سفارت کاروں، سرکاری نمائندوں اور حکومتی اداروں کے اہلکاروں کو ہوگا جنہیں دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری ملاقاتوں، مذاکرات، اجلاسوں اور ادارہ جاتی رابطوں کے لیے بار بار سفر کرنا پڑتا ہے۔

کیا عام پاکستانی سعودی عرب ویزا کے بغیر جاسکیں گے؟

نہیں۔ اس معاہدے کو عام پاکستانی شہریوں کے لیے سعودی عرب کا ویزا فری سفر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ عام پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب جانے کے موجودہ ویزا قواعد بدستور لاگو رہیں گے، جب تک دونوں حکومتیں عام پاسپورٹ کے لیے الگ سے کوئی فیصلہ نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:آج دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی طیاروں کے لیے بند، امریکا کی بڑی پابندی پر عملدرآمد ؟

اسی طرح حج، عمرہ، ملازمت، کاروبار، سیاحت یا خاندانی سفر کے لیے عام پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانیوں کو متعلقہ ویزا اور دیگر مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

سرکاری دوروں میں کیا تبدیلی آئے گی؟

نئے معاہدے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان آنے جانے کا عمل زیادہ آسان ہوسکے گا۔ کسی اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کو سعودی عرب یا سعودی سرکاری وفد کو پاکستان کا دورہ کرنا ہو تو متعلقہ اہلکاروں کے لیے ویزا درخواست کے مرحلے میں کمی آئے گی۔

اس سے دونوں ملکوں کے وزارتوں، سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو بھی سہولت ملنے کی توقع ہے۔ اسحاق ڈار نے بھی معاہدے کو اعلیٰ سطحی روابط اور ادارہ جاتی تبادلوں میں سہولت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

عملدرآمد کب ہوگا؟

معاہدے پر 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں دستخط ہوچکے ہیں، تاہم دستیاب سرکاری معلومات میں ابھی تک اس معاہدے کے عملی نفاذ کی مخصوص تاریخ کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

یعنی صرف دستخط ہوجانے سے یہ ضروری نہیں کہ اسی دن سے تمام متعلقہ پاسپورٹ ہولڈرز کو خودکار طور پر ویزا کے بغیر داخلے کی سہولت مل گئی ہو۔ عموماً ایسے بین الاقوامی معاہدوں کے عملی نفاذ کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کو ضروری انتظامی اور قانونی کارروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔

اس لیے حتمی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی متعلقہ وزارتیں اور امیگریشن حکام معاہدے کے نفاذ کی تاریخ، قیام کی مدت، داخلوں کی تعداد اور دیگر شرائط کب جاری کرتے ہی

Qaisar Mirza
editor

Related Articles