شہزاد اکبر کے غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں سے روابط سے متعلق ایک فالو اَپ تحقیق میں مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کے جرائد، غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹس اور مغربی ذرائع ابلاغ میں موجود دستاویزی شواہد پیش کیے گئے ہیں، تحقیق میں فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس، برطانوی تنظیم ری پریو اور جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے درمیان موجود ادارہ جاتی روابط کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کی تشکیل اور شہزاد اکبر کا مرکزی کردار
تحقیق کے مطابق فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کو پاکستان میں ایک مقامی قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر متعارف کرایا گیا، تاہم مختلف بین الاقوامی ریکارڈز میں شہزاد اکبر کو اس تنظیم کا بانی، قانونی ڈائریکٹر اور نگران مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویز میں برطانوی اخبار گارڈین، آئینی حقوق کے مرکز، بین الاقوامی انسانی حقوق کے جریدے اور روزنامہ ڈان کے حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں جن میں شہزاد اکبر کے فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس سے متعلق مختلف عہدوں اور کرداروں کا ذکر موجود ہے۔
فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس اور ری پریو کے درمیان شراکت داری
تحقیق کا اگلا اہم حصہ فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس اور برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ری پریو کے تعلق سے متعلق ہے،دستاویز کے مطابق ری پریو نے خود فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کو اپنی شراکت دار اور بعد ازاں حکمتِ عملی کی شراکت دار تنظیم قرار دیا،ری پریو کے ریکارڈز کے مطابق دونوں تنظیموں نے پاکستان میں سزائے موت اور منشیات سے متعلق قوانین کے حوالے سے مشترکہ تحقیقات اور سرگرمیوں پر بھی کام کیا۔
فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کی مالی معاونت کہاں سے آتی تھی؟
تحقیقی دستاویز میں امریکی جریدے نیو یارکر کی 2014 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کو ملنے والی مالی معاونت کا بڑا حصہ برتھا فاؤنڈیشن اور ری پریو سے آتا تھا،تحقیق میں اس مالی تعلق کو فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کے بیرونی اداروں کے ساتھ روابط کی ایک اہم کڑی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
شہزاد اکبر کا ری پریو فیلو ہونا بھی ریکارڈ پر
تحقیق کے مطابق شہزاد اکبر کا ری پریو کے ساتھ تعلق صرف فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کی شراکت داری تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ خود ری پریو کے معاون رکن بھی رہے،دستاویز میں ری پریو کے 11 اپریل 2022 کے ایک باضابطہ بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں شہزاد اکبر کو واضح طور پر ری پریو کا معاون رکن قرار دیا گیا، گارڈین کے تعارفی ریکارڈ میں بھی ان کی ری پریو سے وابستگی کا حوالہ موجود ہے۔
ری پریو کے معاونین میں اوپن سوسائٹی کا نام
فالو اَپ تحقیق میں ری پریو کی 2013 کی سالانہ جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ رپورٹ میں شہزاد اکبر کو ری پریو سے وابستہ معاون رکن کے طور پر درج کیا گیا، جبکہ اسی رپورٹ میں اوپن سوسائٹی گلوبل ڈرگز پالیسی کو ری پریو کے بنیادی معاونین میں شامل کیا گیا تھا،تحقیق کے مطابق یہ ریکارڈ ری پریو اور اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے درمیان مالی تعلق کی ایک اہم کڑی فراہم کرتا ہے۔
سوروس سے متعلق ایک اور دستاویزی کڑی سامنے آگئی
تحقیق میں کارپ واچ کی ڈرون اِنک رپورٹ کے اعترافی حصے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، دستاویز کے مطابق اس منصوبے کو جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز سے مالی معاونت حاصل ہوئی تھی، جبکہ اسی رپورٹ میں فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس سے وابستہ میرزا شہزاد اکبر کا رائے اور معاونت کے لیے شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
اوپن سوسائٹی کی جانب سے ری پریو کی قیادت کو مالی معاونت کا حوالہ
دستاویز میں اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے 3 فروری 2017 کے اعلان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ری پریو کی سینئر عہدیدار اینا یئرلی کو نئے انتظامی عہدیداروں کے فنڈ کے وصول کنندگان میں شامل کیا گیا تھا،تحقیق کے مطابق یہ ریکارڈ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز اور ری پریو کی قیادت کے درمیان مالی معاونت کا ایک مزید ادارہ جاتی حوالہ فراہم کرتا ہے۔
فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس سے ری پریو اور پھر اوپن سوسائٹی تک
فالو اَپ تحقیق میں پیش کیے گئے ریکارڈز کو یکجا کرتے ہوئے دستاویز میں ایک ایسا سلسلہ پیش کیا گیا ہے جس میں شہزاد اکبر کا فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کے بانی، قانونی ڈائریکٹر اور نگران کی حیثیت سے کردار، فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس اور ری پریو کی شراکت داری، شہزاد اکبر کا ری پریو سے براہِ راست وابستہ ہونا اور ری پریو کے حوالے سے اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی مالی معاونت کے ریکارڈ شامل ہیں۔
تحقیق کے آخری حصے میں ان روابط کو شہزاد اکبر کے بعد کے سرکاری کردار سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ ایک شخصیت کو پاکستان کے احتسابی ڈھانچے میں اہم اختیارات کیسے حاصل ہوئے،دستاویز میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کو ریاستی احتساب کے اہم ڈھانچے میں مرکزی کردار ملنے کے بعد ان کے سابقہ غیر ملکی ادارہ جاتی روابط خصوصی اہمیت اختیار کر گئے۔
روابط کا ریاستی فیصلوں پر کیا اثر پڑا؟
فالو اَپ تحقیق کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ شہزاد اکبر، فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس، ری پریو اور اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے درمیان موجود دستاویزی روابط کو ایک مربوط سلسلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
دستاویز ان روابط کو پاکستان کے ریاستی اور احتسابی نظام میں شہزاد اکبر کے کردار کے تناظر میں پیش کرتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے کہ غیر ملکی اداروں سے وابستہ نیٹ ورک کا حصہ رہنے والے فرد کو ریاستی اختیارات کے اہم منصب تک پہنچنے کے بعد ان روابط کا کیا اثر پڑا۔
تاہم فراہم کردہ دستاویز میں موجود مواد بنیادی طور پر تنظیمی وابستگی، شراکت داری، مالی معاونت اور پیشہ ورانہ روابط کا ریکارڈ پیش کرتا ہے؛ ان روابط سے ریاستی فیصلوں پر براہِ راست اثر یا کسی غیر قانونی سرگرمی کا حتمی ثبوت الگ سے قائم نہیں کیا گیا۔