مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی وائرل ویڈیو جعلی نکلی، واقعہ ایک سال سے بھی پرانا، فیکٹ چیک رپورٹ

مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی وائرل ویڈیو جعلی نکلی، واقعہ ایک سال سے بھی پرانا، فیکٹ چیک رپورٹ

پاکستانی فیکٹ چیکنگ ادارے ’آزاد فیکٹ چیک‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر حوثی ڈرون حملے کے نام پر گردش کرنے والی ویڈیو دراصل 2025 میں مدینہ منورہ میں پیش آنے والے واقعے کی فوٹیج ہے۔ 

ادارے کے مطابق ایک اسرائیلی ایکس اکاؤنٹ نے یہ پرانی ویڈیو 15 ستمبر 2026 کے واقعے سے جوڑ کر جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔

پاکستانی اکاؤنٹ ’آزاد فیکٹ چیک‘ کے مطابق نے 16 ستمبر 2026 کو ایک پوسٹ میں انکشاف کیا کہ ایک ’اسرائیلی ایکس ہینڈل‘ نے 2025ء کی ایک ویڈیو کو مکہ مکرمہ پر حالیہ ڈرون حملے کے طور پر پیش کیا۔

 ادارے نے اس پوسٹ کو جعلی خبر اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا یمن میں جاری حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب پر حوثیوں کا حملہ، پاکستان کا ردعمل سامنے آگیا

جس پوسٹ کا حوالہ دیا گیا وہ ایک اوپن سورس انٹیلیجنس اکاؤنٹ کی جانب سے کی گئی تھی، جس کے لاکھوں فالوورز ہیں اور جس کا چلانے والا شمالی اسرائیل میں مقیم امریکی شہری بتایا جاتا ہے جو خود کو کھلے عام صیہونی نظریات کا حامل ظاہر کرتا رہا ہے۔

اس اکاؤنٹ نے ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے رات گئے مکہ کے اوپر ایک ڈرون مار گرایا اور یہ کہ 2017 کے بعد مقدس شہر پر یہ دوسرا حملہ ہے۔

آزاد ذرائع سے کی گئی جانچ اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کہ گردش کرنے والی ویڈیو کا تعلق 2026 کے مکہ واقعے سے نہیں بلکہ کسی اور موقع سے ہے۔

2025 کی اصل ویڈیو میں کیا دکھایا گیا تھا؟

حقائق کے مطابق 11 ستمبر 2025 کو سعودی حکام نے مدینہ منورہ میں مسجدِ نبویﷺ کے قریب ایک غیرملکی ڈرون کو روکا تھا۔

ایک ذریعے کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 5:40 بجے پیش آیا، جب فجر کی نماز کے دوران ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی تھی۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا املاک کو نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور حکام نے بعد میں معاملہ بند قرار دے دیا تھا۔

اس وقت متعدد ذرائع اور صارفین نے مسجد کے قریب رات کے آسمان پر ایک روشن چیز یا پرواز کرتی ہوئی چیز کا ذکر کیا تھا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، سلامتی اور خود مختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ

اُس وقت کی کچھ پوسٹس، جن میں ایک روسی خبررساں ادارے کی پوسٹ بھی شامل تھی، نے اسے اسرائیل کی جانب جانے والا حوثی پروجیکٹائل قرار دیا تھا جسے سعودی دفاعی نظام نے مدینہ کے اوپر ہی روک لیا۔

 2025 کے اُس واقعے کی ویڈیوز اب 2026 کے مکہ واقعے سے جوڑ کر پیش کی جا رہی ہیں، حالانکہ مقام مدینہ ہے، مکہ نہیں اور تاریخ بھی ایک سال پرانی ہے۔

آزاد محققین اور اوپن سورس انٹیلیجنس صارفین نے بھی 16 ستمبر 2026ء کو اسی مماثلت کی نشاندہی کی کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی مسجد اصل میں مسجدِ نبوی ہے، نہ کہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام۔

دوسری جانب حوثی حکام نے بھی اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حوثی سیاسی بیورو کے ایک رکن نے مکہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کو ’ایک بوسیدہ جھوٹ‘ قرار دیا جو پہلے بھی استعمال ہو چکا ہے اور اب کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔

ایک اور حوثی عہدیدار نے کہا کہ ان کی تنظیم مکہ یا کسی بھی دوسرے مقدس مقام کو نشانہ نہیں بناتی اور سعودی عرب پر من گھڑت الزامات لگانے کا الزام عائد کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی مؤقف کی بنیاد پر اسے ایک گھناؤنا حملہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

اہم بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی بڑے میڈیا ادارے کی رپورٹنگ میں 2026ء کے اصل ڈرون حملے کی مصدقہ اصل فوٹیج سامنے نہیں آئی اور کچھ اداروں نے یہ بھی واضح کیا کہ ساتھ گردش کرنے والی ویڈیوز کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں:پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، مکہ معاہدے پر اہم ترین پیشرفت

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران پرانی یا غلط کیپشن کے ساتھ گردش کرنے والی ویڈیوز کوئی نئی بات نہیں۔ 2025 کی مدینہ کی یہی ویڈیو ماضی میں بھی مختلف کیپشنز کے ساتھ شیئر ہو چکی ہے۔

کبھی اسے اسرائیل کی جانب جانے والا حوثی میزائل قرار دیا گیا اور کبھی غیر ملکی ڈرون، اب اسی پرانی ویڈیو کو مکہ کے جنوب میں ڈرون روکے جانے کے تازہ سعودی بیان کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا جھوٹا تاثر تخلیق کیا گیا جیسے اسلام کے مقدس ترین مقام پر براہِ راست حملہ ہوا ہو۔ماہرانہ تجزیہ

فیکٹ چیکنگ کے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واقعہ ایک مثال ہے کہ کس طرح جنگی حالات میں پرانی فوٹیج کو نئے سیاق و سباق کے ساتھ جوڑ کر معلومات کو مسخ کیا جاتا ہے۔

خبر میں 2 الگ الگ سچائیاں بیک وقت موجود ہیں، ایک طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 15 ستمبر 2026ء کے واقعے پر حقیقی اور متضاد دعوے موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف اس واقعے کی ’تصویری ثبوت‘ کے طور پر پیش کی گئی ویڈیو مکمل طور پر غلط اور غیرمتعلقہ ہے۔

یہ امر صحافتی اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ مقام، تاریخ اور سرکاری بیانات کی مکمل تصدیق کیے بغیر محض رات کے آسمان پر ہونے والے دھماکے کی فوٹیج کو کسی خاص واقعے سے جوڑنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔

Related Articles