پاکستان میں سرکاری اداروں کی سائبر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کو ذاتی موبائل فون، لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیوائسز کے ذریعے ای آفس اور دیگر حساس سرکاری پورٹلز تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ ہدایات نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم، پی کے سی ای آر ٹی کی جانب سے جاری کردہ نیشنل سائبر سیکیورٹی ہینڈ بک 2026، 27 میں شامل ہیں۔ ہینڈ بک میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت سرکاری اداروں کے ملازمین اور افسران کے لیے سائبر سیکیورٹی سے متعلق مختلف رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔
سرکاری کام کے لیے ذاتی ای میل استعمال کرنے پر بھی پابندی
نئی ہدایات کے مطابق سرکاری خط و کتابت اور دفتری امور کے لیے صرف حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری ای میل اکاؤنٹس استعمال کیے جائیں گے۔ ملازمین کو سرکاری اکاؤنٹس سے آنے والی ای میلز اپنے ذاتی ان باکس میں فارورڈ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ای میل ایڈریس کو شاپنگ، گیمنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رجسٹر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی جی میل اور یاہو سمیت نجی ای میل سروسز کے ذریعے سرکاری امور انجام دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ذاتی موبائل اور لیپ ٹاپ کے استعمال کے لیے اجازت ضروری
ہینڈ بک کے مطابق سرکاری کام کے لیے مجاز کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ٹیبلٹس اور موبائل فونز استعمال کیے جائیں گے۔ اگر کسی ملازم کے پاس سرکاری ڈیوائس دستیاب نہ ہو تو ذاتی ڈیوائس پر سرکاری کام کرنے سے پہلے متعلقہ محکمے سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ ذاتی ڈیوائس کو مقررہ سائبر سیکیورٹی معیار پر بھی پورا اترنا ہوگا۔
ذاتی یو ایس بی اور ہارڈ ڈرائیو بھی سرکاری ڈیوائس سے منسلک نہیں کی جا سکے گی
سائبر سیکیورٹی ہدایات میں سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ ذاتی یو ایس بی ڈرائیوز، ایکسٹرنل ہارڈ ڈسکس اور موبائل فونز منسلک کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ نیشنل سی ای آر ٹی کے مطابق ذاتی اکاؤنٹس اور غیر مجاز ڈیوائسز کا استعمال حساس سرکاری معلومات کے افشا ہونے، میل ویئر پھیلنے اور سائبر حملوں کی تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل ریکارڈ اور آڈٹ ٹریل متاثر ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ نئی ہدایات کا مقصد سرکاری معلومات کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھنا اور سائبر سیکیورٹی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔