ڈرون حملوں کا منہ توڑ جواب، پاکستان نےافغانسان میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا،عطا تارڑ

ڈرون حملوں کا منہ توڑ جواب، پاکستان نےافغانسان میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا،عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملوں کی کوشش کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے پاکستان نے افغان سرزمین پر ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کی سرگرمیاں جاری تھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ کی جانب سے آپریشن غضب للحق کی اپ ڈیٹس سے متعلق ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 23 ستمبر 2026 کو افغان سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں کی گئی دانستہ اور غیر قانونی دراندازی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

یہ عمل پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کا بڑا حملہ، 28 دہشت گرد ہلاک

انہوں نے کہا کہ پاکستان برسوں سے افغان طالبان حکومت اور متعلقہ فریقین تک افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی مسلسل موجودگی کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

 ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے والوں کے خلاف قابلِ یقین اور تصدیق کے قابل کارروائی کرنے کے بجائے، افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے تمام ڈرونز کو اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی شناخت کیا، ان کا تعاقب کیا اور انہیں ناکارہ بنا دیا، جس سے حملے کی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئےپاکستان نے افغانستان میں ان 10 مقامات کے خلاف درست نشانے والے فضائی اور ڈرون حملے کیے جو ان ڈرونز کو لانچ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

یہ حملے دانستہ، درست، نپے تلے اور متناسب تھے اور سختی سے ان مخصوص عسکری اہداف تک محدود رکھے گئے جن کا تعلق براہِ راست پاکستان کے خلاف حملے کی کوششوں سے تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :افواج پاکستان کا افغانستان کے مختلف علاقوں پر بڑا حملہ ، بڑی تعداد میں ڈرون اور تباہ کن راکٹس کا استعمال

وزیر اطلاعات نےواضح کیا کہ  پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے حملوں کو نہ تو قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا، چاہے وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی جانب سے۔

 پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ افغان طالبان کی جانب سے دھمکیاں، تردید یا ذمہ داری سے پہلو تہی کی کوششیں نہ تو حقائق کو تبدیل کر سکتی ہیں اور نہ ہی پاکستان کے اپنے علاقے، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے فطری حق کو محدود کر سکتی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام جارحانہ سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور افغان سرزمین سے کارروائی کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، تصدیق کے قابل اور مستقل کارروائی کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

 افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں ہے اور علاقائی امن، بات چیت اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے۔ اس عزم کو کمزوری یا جارحانہ اقدامات کے حوالے سے لامحدود برداشت ہرگز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری قوتِ ارادی کے ساتھ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جانوں کا دفاع کرے گا اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز کارروائی کا سخت اور دو ٹوک جواب دیا جائے گا۔

editor

Related Articles