کینیڈا نے ایران کے خلاف مزید اقدامات کرتے ہوئے 10 ایرانی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
کینیڈین حکومت کے مطابق یہ کارروائی ایرانی حکومت کی جانب سے مبینہ جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے دباؤ ڈالنے والے اقدامات میں کردار ادا کرنے پر کی گئی ہے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایرانی حکومت کے اقدامات کے خلاف دستیاب تمام ذرائع استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کی بعض سرگرمیاں عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق سے متعلق سنگین خدشات کا باعث بن رہی ہیں۔
ایرانی حکام اور ادارے پابندیوں کی زد میں
کینیڈین حکام کے مطابق تازہ پابندیوں میں ایران کے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس فہرست میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔
کینیڈا کا مؤقف ہے کہ جن افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ان میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جن پر ریاستی سطح پر کیے جانے والے جبر میں کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔
پابندیوں کا دائرہ صرف حکومتی شخصیات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ بعض ایسے اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں کینیڈا ایرانی حکومت کے ڈیجیٹل جبر کے نظام سے منسلک قرار دیتا ہے۔
ڈیجیٹل جبر بھی اہم معاملہ
کینیڈین بیان میں خاص طور پر ’ڈیجیٹل جبر‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق بعض ایرانی ریاستی ادارے اور متعلقہ عناصر ڈیجیٹل ذرائع کو مخالف آوازوں اور شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کینیڈا کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کے خلاف پابندیوں سمیت مختلف ذرائع سے ردعمل دیا جا رہا ہے۔ نئی پابندیاں بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت اوٹاوا ایرانی حکومت سے منسلک بعض افراد اور اداروں کو اپنے اقدامات پر جواب دہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ کا سخت مؤقف
وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے قابل مذمت اقدامات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر کینیڈا خاموش نہیں رہے گا۔
کینیڈین حکومت کے مطابق نئی پابندیاں ان افراد اور اداروں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے عائد کی گئی ہیں جنہیں تہران کی ریاستی پالیسیوں اور مبینہ جبر سے جوڑا جاتا ہے۔
ایران اور کینیڈا کے تعلقات میں ایک اور پیش رفت
ایران کے خلاف کینیڈا کی تازہ پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ اوٹاوا ماضی میں بھی ایران سے متعلق مختلف افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔
حالیہ اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے سکیورٹی، انسانی حقوق اور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے متعلق اپنے اعتراضات پر مزید اقدامات کر رہا ہے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں کے لیے ان اقدامات کے تحت مالی اور دیگر نوعیت کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تاہم ان کی مکمل تفصیلات کینیڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ فہرست اور نوٹیفکیشن سے واضح ہوں گی۔
کینیڈین وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق تازہ کارروائی کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت سے منسلک ان عناصر کے خلاف اقدامات کرنا ہے جنہیں کینیڈا انسانی حقوق، عالمی سلامتی یا ڈیجیٹل جبر سے متعلق معاملات میں ذمہ دار سمجھتا ہے۔