برطانوی فضائیہ نے ممکنہ دشمن کی جانب سے جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے جدید الیکٹرانک جنگی نظام کے استعمال کا آغاز کردیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق رائل ایئرفورس نے ایسے سیٹلائٹ جیمرز نصب کیے ہیں جو بعض سیٹلائٹ نظاموں کی نگرانی اور ڈیٹا منتقلی میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خفیہ طور پر نظام نصب
رپورٹس کے مطابق یہ جدید آلات تقریباً ایک سال سے فعال ہیں، تاہم انہیں نصب کیے جانے کے بارے میں معلومات پہلے عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی تھیں۔
برطانوی فضائیہ نے مبینہ طور پر یہ نظام اپنی عسکری تنصیبات اور حساس سرگرمیوں کو ممکنہ دشمن کی خلائی نگرانی سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کا بنیادی مقصد ایسے سیٹلائٹس کی صلاحیتوں میں مداخلت کرنا ہے جو برطانوی فوجی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے یا انہیں منتقل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جیمرز بعض سیٹلائٹس کی نگرانی کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ذریعے سیٹلائٹ سے زمین یا دیگر نظاموں تک ڈیٹا کی منتقلی میں بھی رکاوٹ پیدا کی جاسکتی ہے۔
اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کو الیکٹرانک وارفیئر کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں مخالف کے مواصلاتی یا نگرانی کے نظام کو براہ راست تباہ کرنے کے بجائے اس کے سگنلز میں مداخلت کرکے مطلوبہ معلومات کے حصول یا ترسیل کو مشکل بنایا جاتا ہے۔
خصوصی یونٹ نظام چلا رہا ہے
برطانوی میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ جیمرز کو رائل ایئرفورس کے ایک خصوصی یونٹ کی جانب سے آپریٹ کیا جارہا ہے۔ یہ یونٹ برطانیہ کے خلائی انفرااسٹرکچر اور اس سے متعلقہ نظام کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلائی شعبے میں عسکری سرگرمیوں کی اہمیت بڑھنے کے باعث برطانیہ نے بھی اپنے دفاعی نظام میں خلائی نگرانی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کو مزید اہمیت دینا شروع کردی ہے۔
ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل ہوئی؟
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ برطانوی فضائیہ نے سیٹلائٹ جیمرز کی یہ ٹیکنالوجی خود تیار کی ہے یا اسے کسی دوسرے ملک یا دفاعی ادارے سے حاصل کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ نظام کن مخصوص سیٹلائٹس یا ممالک کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ نظام فی الحال خفیہ نوعیت کی دفاعی صلاحیت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
خلائی دفاع پر بڑھتی توجہ
دنیا بھر میں عسکری طاقتیں اب زمینی اور فضائی دفاع کے ساتھ ساتھ خلائی نظاموں کے تحفظ پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔ مواصلاتی، نگرانی اور انٹیلی جنس سیٹلائٹس جدید فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف جاسوسی یا الیکٹرانک مداخلت کو بھی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔