آئی ایم ایف سے مذاکرات، حکومت نے بڑی یقین دہانی کروا دی

آئی ایم ایف سے مذاکرات، حکومت نے بڑی یقین دہانی کروا دی

  وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس وصولی میں اضافے اور ٹیکس رعایتوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی کے اہداف پر بھی کام جاری ہے۔

قائمہ کمیٹی کو آئی ایم ایف پروگرام پر بریفنگ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جمعرات کو رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت خزانہ کے حکام نے ملک کی مالیاتی صورتحال، آئی ایم ایف پروگرام اور مختلف معاشی اہداف پر ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکریٹری خزانہ امداد بوسال نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان قرض پروگرام کے تین جائزے مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک 4.1 ارب ڈالر کی مالی معاونت مل چکی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے پر توجہ

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانا اور ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومتی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کےدرمیان مذاکرات آئندہ ہفتے ہونے کا امکان

سیکریٹری خزانہ کے مطابق پروگرام پر عملدرآمد کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہوئی ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی پروگرام نے معاونت فراہم کی ہے۔

ٹیکس وصولی بڑھانے کا عزم

سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے ٹیکس وصولی بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور موجودہ رعایتوں پر نظرثانی کی جارہی ہے۔

حکام کے مطابق ٹیکس رعایتوں کے خاتمے سے حکومت کی آمدن بڑھانے اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سپلیمنٹری گرانٹس پر پابندی

بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانیوں کے بعد سپلیمنٹری گرانٹس کے اجرا پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومتی اخراجات کو مقررہ مالیاتی حدود میں رکھنا اور بجٹ نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کی بیشتر شرائط پر عملدرآمد کی صورتحال بہتر ہے، تاہم بعض اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے۔

گردشی قرض کا ہدف بھی زیر بحث

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان اہداف میں گردشی قرض بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق گردشی قرضے کے معاملے میں مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے، تاہم اسے ایک مخصوص حد کے اندر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا کہ سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی کے لیے آئی ایم ایف نے اہداف مقرر کیے تھے اور ان اہداف کے حصول کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

سیکریٹری خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد پروگرام کے چوتھے جائزے کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ وزارت خزانہ اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہوں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کو آئی ایم ایف سے اگلی قسط کب ملے گی؟بڑی خبر سامنے آگئی

ان مذاکرات میں پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف، مالیاتی کارکردگی اور دیگر معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ترسیلات زر میں اضافہ

بریفنگ کے دوران ترسیلات زر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ ترسیلات زر پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے مقررہ اخراجات کے اہداف بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جاسکے، جس پر کمیٹی میں مختلف امور زیر بحث آئے۔

افسران کے اثاثوں کی ڈکلیئریشن کا معاملہ

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی ڈکلیئریشن کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ سید نوید قمر نے کہا کہ افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے میں کافی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔

اس پر سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر بعض افسران کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرے گا۔

editor

Related Articles