ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے مستقبل کے حوالے سے ایک اور بڑی پیش گوئی کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال اتنا عام ہوجائے گا کہ لوگ اپنے بچوں اور معمر والدین کی دیکھ بھال کے لیے ذاتی روبوٹس استعمال کریں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایلون مسک کا کہنا ہے کہ روبوٹس صرف گھریلو کاموں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بچوں کی تعلیم سمیت کئی دیگر ذمہ داریاں بھی انجام دے سکیں گے۔
20 سال میں 100 ارب انسان نما روبوٹس؟
ایلون مسک نے انسان نما روبوٹس کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے بھی حیران کن اندازہ پیش کیا۔ان کے مطابق آئندہ 10 برس میں دنیا میں انسان نما روبوٹس کی تعداد ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے۔مسک کے اندازے کے مطابق 15 برس میں یہ تعداد 10 ارب جبکہ 20 برس میں 100 ارب تک پہنچ سکتی ہے۔یہ اعداد و شمار ان کی پیش گوئی ہیں، موجودہ تعداد یا کسی آزاد ادارے کی تصدیق شدہ پیش گوئی نہیں۔
ایلون مسک کے مطابق مستقبل میں روبوٹس صرف بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال نہیں کریں گے بلکہ تعلیم سمیت مختلف روزمرہ ذمہ داریاں بھی سنبھال سکتے ہیں۔ اس صورت میں ایک ایسا مستقبل سامنے آسکتا ہے جہاں گھروں میں روبوٹس صفائی، نگرانی، دیکھ بھال اور تعلیم جیسے کاموں میں انسانوں کی مدد کرتے نظر آئیں گے۔
مسک کا چین جانے کا مشورہ
ایلون مسک نے لوگوں کو چین جانے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ممکن ہو تو چین ضرور جائیں اور اگر وقت محدود ہو تو شنگھائی اور بیجنگ کا دورہ کریں۔
اے آئی کے بارے میں بھی بڑی پیش گوئی
ایلون مسک اس سے پہلے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی ایک بڑی پیش گوئی کرچکے ہیں۔ ایکس پر ہونے والی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اگر اے آئی کی موجودہ ترقی کی رفتار برقرار رہی تو 2027 کے اختتام تک یہ ڈیجیٹل دنیا میں کئی کاموں کے حوالے سے انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتی ہے۔
مسک نے اے آئی کی ممکنہ ترقی کو سپر ہیومن صلاحیتوں سے تعبیر کیا تھا۔ ان پیش گوئیوں سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ایلون مسک مستقبل میں اے آئی اور روبوٹکس کے کردار کو موجودہ دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع دیکھتے ہیں، تاہم روبوٹس کی حقیقی تعداد اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں یہ اندازے مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہیں۔