اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال سے متعلق خبر نے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال سے متعلق خبر نے سب کو حیران کر دیا

پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری تدریسی اسپتالوں میں شمار ہونے والے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گریڈ 18 کے سینئر رجسٹرار کی تین آسامیوں کے لیے ابتدائی شارٹ لسٹ نے ملک کے طبی شعبے میں افرادی قوت اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پمز میں سینئر رجسٹرار کی تین آسامیوں کے لیے مجموعی طور پر 12 امیدوار ابتدائی طور پر شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔ ان آسامیوں میں میرٹ پنجاب اوپن اور سندھ اوپن میرٹ کی ایک ایک نشست شامل ہے۔

ایف پی ایس سی کے مطابق اینستھیزیا کے لیے چار امیدوار ابتدائی طور پر شارٹ لسٹ کیے گئے تاہم سندھ اوپن میرٹ پر کوئی امیدوار شارٹ لسٹ نہیں ہوسکا۔ نیونیٹولوجی میں تین امیدوار شارٹ لسٹ ہوئے، جبکہ پنجاب اور سندھ اوپن میرٹ پر کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ نیورولوجی میں پانچ امیدوار ابتدائی طور پر شارٹ لسٹ ہوئے، تاہم سندھ اوپن میرٹ پر مزید کوئی امیدوار شارٹ لسٹ نہیں ہوا۔

ایف پی ایس سی کے مطابق ایک امیدوار کو مطلوبہ تعلیمی قابلیت مقررہ آخری تاریخ تک مکمل نہ کرنے کی بنیاد پر ابتدائی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو دستاویزات کی فزیکل تصدیق کے لیے طلب کیا جائے گا جبکہ ان کی حتمی حیثیت دستاویزات کی تصدیق اور ایف پی ایس سی کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ سینئر رجسٹرار کی آسامیوں کے لیے انٹرویو مرکز اسلام آباد مقرر کیا گیا ہے، تاہم نیورولوجی میں سندھ سے شارٹ لسٹ امیدوار کا انٹرویو کراچی میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:11 ماہ بعد بڑا فیصلہ، نیپرا نے بجلی صارفین کے دل جیت لیے

پمز کی ان آسامیوں کے لیے محدود امیدواروں کی ابتدائی شارٹ لسٹ اس وسیع تر مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ پاکستان کے طبی شعبے میں صورتحال ہر شعبے اور ہر سطح پر یکساں نہیں۔ بعض عام سرکاری ملازمتوں کے لیے بڑی تعداد میں امیدوار مقابلے میں شامل ہوتے ہیں، جبکہ بعض انتہائی تخصصی طبی شعبوں میں مطلوبہ ماہرین کی دستیابی ایک الگ چیلنج بنتی جارہی ہے۔

یہ فرق اس سوال کو بھی اہم بناتا ہے کہ اگر ملک میں میڈیکل کی تعلیم اور تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر موجود ہیں تو مخصوص تخصصی آسامیوں کے لیے امیدواروں کی تعداد محدود کیوں ہے؟

پاکستان کے طبی شعبے کو درپیش ایک اور بڑا چیلنج ڈاکٹروں اور دیگر طبی ماہرین کی بیرون ملک منتقلی ہے۔ بہتر مالی مراعات، پیشہ ورانہ ترقی، جدید طبی سہولیات، کام کے بہتر ماحول اور تخصص کے زیادہ مواقع کے باعث پاکستانی ڈاکٹر مختلف ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعدادوشمار اور بیرون ملک جانے والے ڈاکٹروں کے لیے جاری کیے جانے والے گڈ اسٹینڈنگ سرٹیفکیٹس اس رجحان کی موجودگی کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ تاہم بیرون ملک جانے والے ہر ڈاکٹر کو مستقل طور پر پاکستان کے طبی شعبے سے محروم ہونے والے ڈاکٹر کے طور پر شمار کرنا درست نہیں، کیونکہ بعض ڈاکٹر مزید تربیت یا محدود مدت کے لیے بھی بیرون ملک جاتے ہیں۔

طبی شعبے کے ماہرین کے مطابق صحت کے نظام کو صرف ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد سے نہیں پرکھا جاسکتا۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ کتنے ماہر ڈاکٹر ملک میں موجود ہیں، وہ کن شعبوں میں کام کررہے ہیں، انہیں کن علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے اور سرکاری اسپتالوں میں اعلیٰ تخصصی آسامیوں کے لیے کتنی مراعات اور سہولیات دستیاب ہیں۔

اینستھیزیا، نیونیٹولوجی اور نیورولوجی جیسے شعبوں میں ماہرین کی کمی کا براہ راست تعلق مریضوں کو دستیاب سہولیات سے ہوسکتا ہے، کیونکہ ان شعبوں کے ماہرین انتہائی پیچیدہ اور حساس طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

اگر سرکاری اسپتالوں میں ایسی آسامیوں پر مطلوبہ تعداد میں ماہرین دستیاب نہ ہوں تو اس کا اثر آپریشن تھیٹرز، انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کے علاج، فالج اور دیگر اعصابی بیماریوں کے علاج سمیت متعدد شعبوں پر پڑسکتا ہے۔

طبی شعبے سے وابستہ حلقوں کے مطابق ڈاکٹروں کو ملک میں روکنے کے لیے صرف تنخواہوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔ جدید طبی آلات، تحقیق کے مواقع، پوسٹ گریجویٹ تربیت، میرٹ پر ترقی، محفوظ اور بہتر کام کا ماحول، مناسب اسٹاف اور پیشہ ورانہ عزت بھی ڈاکٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اگر ایک طرف میڈیکل گریجویٹس کی بڑی تعداد روزگار کے لیے مقابلہ کررہی ہو اور دوسری جانب مخصوص شعبوں میں سرکاری اسپتالوں کی اہم آسامیوں کے لیے امیدوار کم ہوں تو یہ صورتحال صحت کے نظام میں طلب اور رسد کے عدم توازن کی نشاندہی کرسکتی ہے۔

پمز میں سینئر رجسٹرار کی تین آسامیوں کے لیے 12 امیدواروں کی ابتدائی شارٹ لسٹ محض ایک بھرتی کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تخصصی طبی افرادی قوت کو کس طرح ملک میں برقرار رکھا جائے۔

اگر تربیت یافتہ ڈاکٹر بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہوتے رہے اور سرکاری اسپتالوں میں تخصصی آسامیوں کے لیے مطلوبہ ماہرین دستیاب نہ ہوئے تو مستقبل میں صحت کے شعبے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں طبی ماہرین کی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان میں کام کرنے کے قابل اور پرکشش پیشہ ورانہ ماحول بھی فراہم کیا جائے، تاکہ بیرون ملک جانے کا فیصلہ صرف معاشی مجبوری یا بہتر مواقع کی تلاش کی وجہ سے نہ کرنا پڑے۔

پمز کی موجودہ شارٹ لسٹ نے اسی بڑے سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ پاکستان اپنے تیار کردہ طبی ماہرین کو ملک میں کیسے برقرار رکھ سکتا ہے اور جن تخصصی شعبوں میں پہلے ہی ماہرین کی ضرورت ہے وہاں افرادی قوت کا خلا کیسے پورا کیا جائے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles