چین کی جیوژائیگو وادی، جہاں جھیلوں کا پانی رنگ بدلتا ہے

چین کی جیوژائیگو وادی، جہاں جھیلوں کا پانی رنگ بدلتا ہے

چین کے صوبے سیچوان میں واقع جیوژائیگو وادی اپنی حیران کن قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

یہاں شفاف جھیلیں، رنگ بدلتا پانی، بلند آبشاریں، گھنے جنگلات اور برف سے ڈھکے پہاڑ ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی خواب یا پریوں کی کہانی جیسا محسوس ہوتا ہے۔جیوژائیگو کا مطلب ’’نو دیہات کی وادی‘‘ ہے۔ اس کا نام یہاں آباد قدیم تبتی دیہاتوں کی تعداد کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔

شیشے جیسے شفاف تالاب

جیوژائیگو کی سب سے خاص بات یہاں موجود خوبصورت اور شفاف جھیلیں ہیں۔ ان میں موجود پانی کئی مقامات پر اتنا صاف دکھائی دیتا ہے کہ جھیل کا نچلا حصہ بھی واضح نظر آتا ہے۔ ان جھیلوں کے پانی میں موجود معدنی اجزا اور قدرتی نمکیات روشنی کے انعکاس پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پانی مختلف حالات میں مختلف رنگوں میں دکھائی دیتا ہے۔ کبھی یہ پانی گہرے نیلے رنگ کا نظر آتا ہے، کبھی فیروزی اور کبھی زمرد جیسا سبزبج

سورج کی روشنی بدلتی ہے پانی کا رنگ

جھیلوں کے رنگ ایک ہی جگہ پر ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ موسم، دن کے وقت اور سورج کی روشنی کے زاویے کے ساتھ پانی کی ظاہری رنگت میں بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔اسی خاصیت کی وجہ سے جیوژائیگو کی جھیلیں سیاحوں اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے خاص کشش رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:1980 کی دہائی کی اےآئی تصویر نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو پکڑوا دیا

آبشاریں اور برف پوش پہاڑ

وادی میں صرف رنگ بدلتی جھیلیں ہی نہیں بلکہ خوبصورت آبشاروں کا ایک وسیع سلسلہ بھی موجود ہے۔ کئی مقامات پر پانی مختلف سطحوں سے گزرتا ہوا نیچے آتا ہے، جس سے کثیر المنزلہ آبشاروں کا دلکش منظر بنتا ہے۔ دوسری جانب گھنے جنگلات اور برف پوش پہاڑ اس علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

قدرت کا ایک منفرد شاہکار

جیوژائیگو وادی کو اس کی غیر معمولی قدرتی اہمیت کے باعث یونیسکو نے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں تاکہ شفاف جھیلوں، آبشاروں، جنگلات اور پہاڑوں کے اس منفرد امتزاج کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

جیوژائیگو اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ قدرت کس طرح پانی، پہاڑوں، جنگلات اور روشنی کو ایک ساتھ ملا کر ایسا منظر تخلیق کرسکتی ہے جو دیکھنے والے کو دیر تک حیران رکھتا ہے۔

editor

Related Articles