خیبر پختونخوا میں دہشت گردی عروج پر، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار مذمتی بیانات تک محدود: عرفان خان

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی عروج پر، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار مذمتی بیانات تک محدود: عرفان خان

سینئر صحافی عرفان خان نے کہا ہے کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی عروج پر ہے جبکہ دوسری جانب صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سڑکوں پر احتجاج میں مصروف ہیں، ایسے میں دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آزاد پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان خان نے کہا کہ سال 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں 2456 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں، تاہم اسی عرصے کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار صرف مذمتی بیان تک محدود رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں ایک مرتبہ کے سوا ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلایا گیا، نہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوئی پالیسی یا گائیڈ لائنز دی گئیں اور نہ ہی دہشت گردوں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔

عرفان خان کے مطابق حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں ہورہی ہیں، لیکن صوبے کا چیف ایگزیکٹو نہ کسی شہید کے جنازے میں شریک ہوتا ہے اور نہ کسی شہید کے جنازے کو کندھا دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق 2026 کے دوران ہونے والے واقعات میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث رہے اور ان کی شناخت افغان باشندوں کے نام سے ہوئی، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک مرتبہ بھی کھل کر یہ اظہار نہیں کیا گیا کہ افغان سرزمین یا افغان باشندے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کیوں استعمال ہورہے ہیں۔

سینئر صحافی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور متعدد بار اشتعال انگیزی اور دراندازی کی گئی، جبکہ افغان سرحد سے پاکستان کی سیکیورٹی چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ان میں سے کسی واقعے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے ایپکس کمیٹی کا کوئی ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کی عدم دلچسپی کے باعث تحریک انصاف کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ

عرفان خان نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران 2456 دہشت گردی کے واقعات میں 472 شہادتیں ہوئیں، جن میں پاک فوج، سویلینز اور ایف سی کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ 1584 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس دوران 19 خودکش حملے ہوئے، جن میں 12 خودکش حملہ آوروں کی شناخت افغان باشندوں کے نام سے ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں متعدد بار سرحد پار سے دراندازی اور حملے بھی کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں 260 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں زیادہ تر خیبر پختونخوا میں تھے، اور ان 260 دہشت گردوں کی شناخت بھی افغان باشندوں کے نام سے ہوئی۔

سینئر صحافی نے کہا کہ ان اعدادوشمار کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب امارت اسلامی افغانستان کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ افغان سرزمین، افغان باشندے یا ان کے لوگ پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہورہے تو پھر یہ واقعات کیا ظاہر کرتے ہیں۔

عرفان خان کے مطابق نہ سہیل آفریدی کی جانب سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا ہے اور نہ کوئی گائیڈ لائن یا پالیسی دی جاتی ہے، جبکہ وفاق پر سیاسی حملے کے لیے وقت موجود ہے لیکن ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کے لیے وقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ خیبر پختونخوا حکومت یا پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی قسم کا سخت بیان نہ دیا جائے اور نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی ہٹ دھرمی، حکومت کو بالآخر اسلام آباد، پشاور موٹروے بند کرنا پڑگئی

عرفان خان نے کہا کہ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ اگر دہشت گردوں یا دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی گئی تو پی ٹی آئی کا انجام عوامی نیشنل پارٹی یا جمعیت علمائے اسلام جیسا ہوسکتا ہے، اسی لیے دہشت گردی سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات، شہادتوں، افغان سرحد سے دراندازی اور اشتعال انگیزی کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت نے خاموشی میں بہتری سمجھی ہے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی قسم کا سخت بیان نہیں دیا جائے گا۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ بطور چیف ایگزیکٹو صوبے کے حوالے سے بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے یا کسی فیصلے کے لیے ایپکس کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا جائے گا، کیونکہ ایسے کسی فیصلے کا خمیازہ تحریک انصاف کی قیادت کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔

عرفان خان کے مطابق اسی لیے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے سے بھی دور رہنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دہشت گردی کے واقعات کا ملبہ وفاقی اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر ڈالا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق واقعات پر تحریک انصاف یا صوبائی حکومت کی خاموشی یہ ظاہر کررہی ہے کہ یا تو خیبر پختونخوا حکومت سہولت کار ہے یا پھر ڈر اور خوف کی وجہ سے خاموش ہے۔

Related Articles