خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں شہریوں نے صوبے میں صحت، تعلیم، امن و امان، پولیسنگ اور ترقیاتی ترجیحات سے متعلق مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں میں ادویات اور تشخیصی سہولیات، سرکاری اسکولوں کی حالت، امن و امان اور روزمرہ مسائل کے حل پر زیادہ توجہ درکار ہے۔
صحت کے شعبے میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف سرکاری ہسپتالوں سے ادویات کی فراہمی اور بنیادی تشخیصی سہولیات کی کمی سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔ اگست میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں وینڈرز کی ادویات اور ضروری طبی سامان کی سپلائی روکنے کی خبر سامنے آئی، جبکہ چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مریضوں نے لائف سیونگ ادویات کی عدم دستیابی اور CT اور MRI مشینوں کی سہولت نہ ہونے کی شکایات کیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی عوامی توجہ کا بڑا مرکز سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اور بچوں کے تعلیمی معیار کا مسئلہ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں سرکاری اسکولوں میں داخلے کے مقررہ ہدف اور حاصل شدہ نتائج کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی، جبکہ حکومت نے کم کارکردگی والے سرکاری اسکولوں کے حوالے سے مختلف اصلاحاتی اقدامات بھی کیے ہیں۔
امن و امان بھی صوبے کے شہریوں کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے باعث شہری پولیس کی کارکردگی، جدید وسائل، فوری رسپانس اور جان و مال کے تحفظ کے مؤثر نظام کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کو بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات اور دہشت گردوں کے جدید طریقۂ کار کے باعث مسلسل دباؤ کا سامنا بھی رپورٹ ہوا ہے۔
اسی طرح شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ صوبے میں بڑے اور دیرپا ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں حکومت نے 32 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی بحالی و اپ گریڈیشن کے لیے مجموعی طور پر 33 ارب روپے سے زائد مالیت کی اسکیمیں منظور ہونے اور جدید طبی آلات کی فراہمی سے متعلق پیش رفت بتائی ہے۔
ان مسائل کے تناظر میں پشاور، مردان، ایبٹ آباد، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت بڑے شہری مراکز میں عوامی بحث کا ایک اہم موضوع یہ بن گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات کیا ہونی چاہئیں اور آئندہ قیادت سے عوام کس قسم کی کارکردگی چاہتے ہیں۔
سیاسی سطح پر حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور احتجاج کے حوالے سے بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ مسلسل سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سیاست سے حکمرانی اور عوامی مسائل سے توجہ متاثر ہوتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جمہوری اور آئینی حق قرار دیتے ہیں۔ اس لیے عوامی رائے کو کسی ایک سیاسی مؤقف تک محدود کرنے کے بجائے صحت، تعلیم، امن و امان، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں جیسے عملی مسائل کی بنیاد پر جانچنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اگر کسی نئے وزیراعلیٰ یا نئی قیادت کا مطالبہ عوامی سطح پر سامنے آتا ہے تو اس کی درست عکاسی کے لیے باقاعدہ سروے، حقیقی شہریوں کے انٹرویوز اور شہر وار قابلِ تصدیق آرا ضروری ہوں گی۔ محض فرضی ناموں یا من گھڑت بیانات کی بنیاد پر اسے عوامی سروے قرار دینا قابلِ اعتماد صحافت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
