پی ٹی آئی حکومت کا طالبان سے مذاکرات کا نتیجہ یہ ہوا کہ 40 ہزار طالبان دوبارہ لا کر آباد کر دیئے،ممبر صوبائی اسمبلی اشبار جان جدون

پی ٹی آئی حکومت کا طالبان سے مذاکرات کا نتیجہ یہ ہوا کہ 40 ہزار طالبان دوبارہ لا کر آباد کر دیئے،ممبر صوبائی اسمبلی اشبار جان جدون

صوبائی اسمبلی کی رکن اشبار جان جدون نے طالبان کی دوبارہ صوبے میں واپسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت صوبے میں قانون کی بالادستی قائم کرنا چاہے اور ذاتی خواہش یا سیاسی دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے۔

اشبار جان جدون نے پی ٹی آئی حکومت کے طالبان سے مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 40 ہزار طالبان دوبارہ صوبے میں آباد کر دیے گئے،حکومت کے پاس اس معاملے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے اور اگر کوئی منصوبہ موجود ہے تو انہیں عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

صوبائی رکن نے سوات اور وزیرستان کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سوات میں آپریشن کے بعد امن قائم ہوا، اسی طرح وزیرستان میں بھی فوجی کارروائی کے بعد حالات بہتر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کی آٹھ فروری کی کال کے پیچھے نومئی کی طرح کا ماڈل تیار کیا جارہا ہے،اظہر جاوید کا انکشاف

لیکن موجودہ حکومت نے طالبان کو دوبارہ صوبے میں آباد کر دیا، جس کے باعث خطے میں امن قائم کرنا مشکل ہو گیا ہےاشبار جان جدون نے کہا کہ اب اس معاملے کا حل صرف آپریشن کے ذریعے ممکن ہے اور عوام کی سلامتی کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تو طالبان کی موجودگی پر قابو پانے کے لیے فوری منصوبہ بندی کی جائے۔

editor

Related Articles