ایران کے ساتھ جنگ طویل ، امریکی سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کو آئینہ دکھا دیا

ایران کے ساتھ جنگ طویل ، امریکی سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کو آئینہ دکھا دیا

امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کی طوالت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چک شومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یاد کریں جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں جنگ صرف 4 سے 5 ہفتے جاری رہے گی ۔

 انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ جنگ کو آٹھواں مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس کے اختتام کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

ڈیموکریٹ رہنما کا کہنا تھا کہ اس طویل جنگ کی سب سے بھاری قیمت امریکی عوام اور امریکی فوجی ادا کر رہے ہیں، ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں اور موجودہ حقیقت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے، اور اس فرق کا خمیازہ عام شہری اور محاذ پر موجود فوجی بھگت رہے ہیں۔

سینیٹ کی حالیہ ووٹنگ

شومر نے سینیٹ میں ہونے والی حالیہ ووٹنگ کا بھی ذکر کرتے کہا کہ گزشتہ ہفتے سینیٹ کے ری پبلکن ارکان کے پاس تنازع ختم کرنے کے لیے ووٹ دینے کا موقع تھا، لیکن انہوں نے جنگ جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔

اپنے بیان میں شومر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ری پبلکن ارکان کو اس معاملے میں شریکِ جرم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’اے آئی فورس‘ بنانے کا اعلان

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ طول پکڑ چکی ہے ،  امریکا آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کرچکا ہے ، اس امریکی فیصلے کے باعث جنگ کے خاتمے اور بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے تعطل برقرار ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس فیصلے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں (برینٹ کروڈ) 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کی وجہ سے خود امریکہ کے اندر پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے عوام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

editor

Related Articles