بھارت میں ہندو انتہا پسندی سر چڑھ کر بولنے لگی، مسجد کو بچانے والے مسلمانوں پر بدترین تشدد

بھارت میں ہندو انتہا پسندی سر چڑھ کر بولنے لگی، مسجد کو بچانے والے مسلمانوں پر بدترین تشدد

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 2028 کے ہندو مذہبی میلے کی آڑ میں 600 سالہ تاریخی شاہی مسجد کو مسمار کرنے کی کوشش پر پولیس اور مسلمانوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

رات کی تاریکی میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی اور صبح سویرے اچانک بلڈوزر ایکشن کے باعث علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

معاہدے کی خلاف ورزی اور اچانک دھاوا

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات مسجد کی نمائندہ کمیٹی اور مقامی انتظامیہ کے درمیان یہ معاملات طے پا گئے تھے کہ سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت مسجد کا صرف وہ 3 فٹ کا حصہ ہٹایا جائے گا جو غیر مستعمل ہے اور وہاں نماز ادا نہیں کی جاتی۔

تاہم پیر کی صبح فجر کی نماز کے بعد جب شہری پرامن طور پر اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو تقریباً 8 بجے حکام نے اچانک بلڈوزر کے ہمراہ مسجد کا گھیراؤ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کر رہا ہے؟ پاکستانی صحافی کے جواب پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر دم دبا کر بھاگ نکلے

انتظامیہ نے مبینہ طور پر نشان زدہ حصے کو فوری مسمار کرنے کی دھمکی دی، جس سے مقامی مسلم آبادی میں یہ تاثر پختہ ہوا کہ انتظامیہ اپنے ہی کیے گئے معاہدے سے مکر گئی ہے۔

پولیس کا کریک ڈاؤن اور عوامی مزاحمت

اس اچانک اور اشتعال انگیز کارروائی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اپنی تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے وہاں جمع ہو گئے اور مسجد کے اندر اور باہر دھرنا دے دیا۔

صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ مظاہرین پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں۔

مسجد کے مینار پر تنازع

مسجد کے مینار کے حوالے سے بھی فریقین میں شدید ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ مقامی افراد نے انتظامیہ کو یہ معقول پیشکش کی تھی کہ موجودہ تاریخی مینار کو ہٹانے سے قبل انہیں اس کے بالکل پیچھے ایک نیا مینار تعمیر کرنے کی مہلت دی جائے تاکہ مسجد کا تقدس اور ظاہری خدوخال برقرار رہیں۔ تاہم انتظامیہ نے اس پرامن تجویز کو یکسر مسترد کر دیا، جس سے حالات مزید بگڑ گئے۔

پولیس کا متضاد موقف

ایک طرف جائے وقوعہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے بادل چھائے رہے، تو دوسری جانب اجین کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردیپ شرما نے میڈیا کے سامنے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی۔

ان کا دعویٰ تھا، ‘مسلم کمیونٹی اور مسجد کمیٹی 2028 کے سمہاستھا کمبھ میلے کے پیش نظر مکمل اتفاق رائے اور تعاون کے ساتھ سڑک کو چوڑا کرنے کے زون میں آنے والے مسجد کے حصے کو خود ہٹا رہی ہے‘۔

یہ شاہی مسجد خطے کے اسلامی فن تعمیر اور 600 سالہ قدیم تاریخ کی ایک اہم علامت ہے۔ اسے 2028 میں شیڈول ہندوؤں کے بڑے مذہبی میلے’سمہاستھا کمبھ‘ کے لیے سڑکوں کی کشادگی کے منصوبے کی زد میں لایا گیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا ماننا ہے کہ ترقیاتی کاموں کی آڑ میں جان بوجھ کر ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترقی کی آڑ میں ریاستی جبر کا تسلسل

اس پورے واقعے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بھارت بالخصوص مدھیہ پردیش اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں جاری اس منظم ریاستی حکمت عملی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے، جہاں ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی کشادگی کو اقلیتوں کی تاریخی اور مذہبی شناخت مٹانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ڈرائیور لیس گاڑی حادثہ: اسلام آباد پولیس نے طالب علم کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی؟

پولیس افسر کی جانب سے ‘مکمل اتفاق رائے اور تعاون’ کا دعویٰ زمینی حقائق سے یکسر متصادم ہے۔ اگر کمیونٹی رضاکارانہ طور پر حصہ ہٹا رہی تھی، تو فجر کے فوراً بعد بلڈوزر لانے، لاٹھی چارج کرنے اور آنسو گیس کے استعمال کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی مشینری طاقت کے زور پر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے اور ترقی کے نام پر ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے، جس میں اقلیتوں کے آئینی و مذہبی حقوق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔

Related Articles