عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے عالمی سپلائی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ خطے سے خام تیل مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.49 ڈالر، یعنی 1.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 106.90 ڈالر تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.34 ڈالر، یعنی 1.5 فیصد مہنگا ہوکر 94 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کا تنازع تیل مارکیٹ پر اثرانداز
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی تشویش خام تیل کی عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ ہے، اگر خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔
KCM Trade کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات میں اضافے کے آثار واضح ہیں، تاہم اس کا بڑا حصہ معمول کے بجائے متبادل طریقوں سے منتقل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق شپ ٹو شپ منتقلی جیسے طریقے روایتی ترسیل کے مقابلے میں زیادہ مہنگے اور کم مؤثر ہیں۔ یہی صورتحال خام تیل کی قیمتوں کو بلند سطح پر رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے برآمدات میں اضافہ
ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے Kpler کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ستمبر میں خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، یہ فروری کے بعد خطے سے خام تیل کی برآمدات کی بلند ترین سطح ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اضافی ترسیلات نے بھی اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا تاہم برآمدات میں بہتری کے باوجود مارکیٹ میں سپلائی کے مستقبل سے متعلق خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
تیل مہنگا ہونے سے عام صارف پر کیا اثر پڑے گا؟
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں ، خصوصاً تیل درآمد کرنے والے ممالک میں عالمی قیمتوں کا بڑھنا مقامی ایندھن کی قیمتوں کے لیے دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔
آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ کس طرف؟
تیل مارکیٹ میں اگلی سمت کا انحصار بڑی حد تک خطے میں جاری کشیدگی اور خام تیل کی ترسیل پر ہوگا، اگر سپلائی معمول کے مطابق بحال ہوتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے، تاہم کسی بڑی رکاوٹ کی صورت میں عالمی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آسکتا ہے۔