بلوچستان کے ضلع چاغی میں سیکیورٹی فورسز نے ’آپریشن ردالفتنہ 3‘ کے تحت کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تخریب کاری میں ملوث ’فتنہ الہندوستان‘ کے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ تازہ ترین کارروائی ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں اس وقت عمل میں آئی جب شرپسند عناصر نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔
’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے ان دہشت گردوں نے نوکچہ کے مقام پر کھڑے ایک خالی واٹر باوزر کو آگ لگائی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
تاہم علاقے میں مستعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان کا محاصرہ کر لیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
قومی شاہراہوں پر حملے
ہلاک ہونے والے یہ دہشت گرد صوبے میں بدامنی پھیلانے کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ شرپسند عناصر اس سے قبل اہم قومی شاہراہ این 40 کے مختلف مقامات پر بھی آتشزدگی اور تخریب کاری کی متعدد کارروائیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔
ان کا بنیادی مقصد شاہراہوں کو غیر محفوظ بنا کر عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا تھا۔ واضح رہے کہ اسی نوعیت کی تخریبی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے 31 اگست کو بھی فورسز نے ایک بڑا آپریشن کیا تھا، جس میں ’فتنہ الہندوستان‘ کے 11 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ حالیہ ایکشن اسی سلسلے کی کڑی ہے جس نے اس نیٹ ورک کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ریاستی رٹ اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ
بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ریاست نے شرپسند عناصر کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا لی ہے۔
قومی شاہراہوں بالخصوص این 40 پر حملے دراصل صوبے کے معاشی پہیے کو جام کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔
تخریب کاروں کی جانب سے واٹر باوزر جیسی بنیادی شہری سہولیات کو نشانہ بنانا ان کی بوکھلاہٹ اور عوامی ہمدردی سے محرومی کو ظاہر کرتا ہے۔
تسلسل کے ساتھ جاری یہ سیکیورٹی آپریشنز ثابت کرتے ہیں کہ انٹیلی جنس کا نظام اب کہیں زیادہ متحرک اور فعال ہو چکا ہے، جس کے باعث تخریب کاروں کے لیے فرار کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔
دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کے امن کو کسی صورت تباہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ صوبے کی تعمیر و ترقی اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز دن رات متحرک ہیں۔
حکام کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت اور بھرپور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔