صارفین ہوشیار، مصنوعی ذہانت سے ہدایات لینے والا کمپیوٹر وائرس دریافت

صارفین ہوشیار، مصنوعی ذہانت سے ہدایات لینے والا کمپیوٹر وائرس دریافت

ونڈوز کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ایک خطرناک وائرس کی نشاندہی کی ہے، جو اپنی کارروائیوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد حاصل کرتا ہے۔

امریکی سائبر سیکیورٹی کمپنی سسکو ٹالوس کے ماہرین کے مطابق اس وائرس کا نام ’’کلوزڈ کوورم‘‘ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی کارروائیوں کے دوران گوگل جیمنی، ڈیپ سیک، کیو وین اور مسٹرل جیسے معروف اے آئی چیٹ بوٹس سے ہدایات اور تجاویز حاصل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی کی ایک تصویر نے کمپنی کی سی ای او کو مشکل میں ڈال دیا

یہ وائرس ونڈوز کمپیوٹر میں داخل ہونے کے بعد مالیاتی اداروں اور بینکنگ ویب سائٹس سے متعلق حساس معلومات چرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں لاگ اِن معلومات، پاس ورڈز اور دیگر اہم ڈیٹا شامل ہوسکتا ہے، جسے بعد میں حملہ آوروں تک پہنچایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس خطرناک پروگرام کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کی کارروائیوں میں مختلف اے آئی ماڈلز الگ الگ انداز میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یوں وائرس اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ وائرس روایتی انداز میں صرف کسی کمانڈ یا ہدایت کا انتظار نہیں کرتا بلکہ اپنی کارروائیوں کے دوران مختلف کام انجام دینے کے لیے اے آئی ماڈلز سے رابطہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ اکاؤنٹ محفوظ رکھنے کے لیے یہ غلطی ہرگز نہ کریں

سسکو ٹالوس کے ماہرین نے وائرس کا جائزہ لینے کے باوجود اب تک یہ معلوم نہیں کیا کہ اسے کس نے تیار کیا ہے۔ اس کی تیاری کے پیچھے موجود فرد یا گروہ کی شناخت تاحال سامنے نہیں آسکی۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ونڈوز صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کمپیوٹرز کو جدید ترین سکیورٹی اپ ڈیٹس سے اپ ڈیٹ رکھیں، غیر معروف فائلیں اور پروگرام انسٹال کرنے سے گریز کریں اور معتبر سکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں صارفین کے لیے نئی سہولتیں پیدا کر رہی ہے، وہیں سائبر حملہ آور بھی اس ٹیکنالوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles