جاپان میں مستقل رہائش کے خواہشمند غیرملکیوں کیلئے قواعد سخت، آج سے نئی شرائط نافذ

جاپان میں مستقل رہائش کے خواہشمند غیرملکیوں کیلئے قواعد سخت، آج سے نئی شرائط نافذ

جاپان نے مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے قواعد سخت کر دیے ہیں۔ 

جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی نے اس سلسلے میں نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں،  ان کے تحت درخواست گزاروں کو زیادہ سخت مالی اور قانونی جانچ سے گزرنا ہوگا۔

آمدنی کی نئی شرط

نئی ہدایات کے مطابق درخواست گزار کی سالانہ آمدنی عام جاپانی گھرانوں کی اوسط آمدنی سے زیادہ ہونی چاہیے۔ یہ شرط یکم اپریل 2026 کے بعد متعارف کرائی گئی ہے اور ابھی زیرِ التوا درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔

پنشن، ٹیکس اور قوانین کی پابندی

حکام اب درخواست گزار کی مستقبل میں متوقع پنشن کو بھی دیکھیں گے، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ وہ طویل مدت میں مالی طور پر خود کفیل رہ سکے گا یا نہیں ؟ اس کے ساتھ ٹیکس، پنشن اور دیگر سماجی تحفظ کی ادائیگیوں سمیت جاپانی قوانین کی پابندی بھی مستقل رہائش کے جائزے میں اہم رہے گی۔

جاپانی زبان کی شرط اور فیس 

نئی ہدایات میں جاپانی زبان کی ایک مخصوص سطح کی اہلیت بھی شامل کی گئی ہے تاہم یہ شرط فوری نہیں بلکہ اپریل 2027 سے نافذ ہوگی، یعنی درخواست گزاروں کے پاس تیاری کے لیے وقت موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جاپان کی لگژری برف مرکز نگاہ ، آخر ایسا خاص کیا ہے ؟

سب سے نمایاں تبدیلی فیس میں ہے جہاں مستقل رہائش کی درخواست کی فیس 10 ہزار ین سے بڑھا کر 2 لاکھ ین کر دی گئی ہے، جو کہ  تقریباً 20 گنا اضافہ ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق مستقل رہائش ایک طویل مدتی حیثیت ہے، اس لیے درخواست گزار کی مالی خود کفالت، قوانین کی پابندی اور جاپان میں مستقل زندگی گزارنے کی صلاحیت کو زیادہ سختی سے پرکھا جائے گا۔

پاکستانی درخواست گزار کیا کریں ؟

جاپان میں کام یا تعلیم کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،  ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستقل رہائش کا ارادہ ہو تو ٹیکس اور پنشن کی ادائیگیاں باقاعدگی سے رکھیں، اپنی آمدنی کا ریکارڈ سنبھالیں اور جاپانی زبان سیکھنا شروع کریں،  درخواست دینے سے پہلے امیگریشن سروسز ایجنسی کی ویب سائٹ سے تازہ ہدایات ضرور دیکھ لیں۔

یہ بھی پڑھیں : سویڈن امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلی، مستقل رہائش کا راستہ آسان

editor

Related Articles