ہری پور ضمنی الیکشن میں سرکاری افسران کے خلاف مبینہ بیان کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی، جبکہ عدالت نے درخواست گزار کے وکلا کو کیس مزید ملتوی نہ کرنے کی آخری وارننگ دے دی۔
جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے وکلا جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی قانونی نمائندگان عدالت میں پیش ہوئے۔
سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آج کی سماعت ملتوی کردی جائے، کیونکہ انہوں نے اسی روز کیس کا وکالت نامہ جمع کرایا ہے اور انہیں تیاری کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اس پر جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکلا کو واضح طور پر آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی صورت کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لا خرم ذیشان نے بار بار التوا پر اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی استدعا پر کیس کی سماعت اب تک چھ مرتبہ ملتوی کی جاچکی ہے۔
خرم ذیشان نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن میں بھی اس معاملے پر کیس کے میرٹ پر سماعت ہوچکی ہے اور اس دوران سہیل آفریدی کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ صورتحال میں سہیل آفریدی کی درخواست قابل سماعت نہیں رہی۔
الیکشن کمیشن کے قانونی نمائندے نے عدالت کو مزید بتایا کہ کمیشن نے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہری پور کے ضمنی انتخاب کے دوران سہیل آفریدی کی جانب سے سرکاری افسران کے حوالے سے دیے گئے مبینہ بیان سے متعلق ہے، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا تھا۔ اس نوٹس کے خلاف سہیل آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس کیس میں اس سے قبل بھی عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن کی کارروائی اور حتمی حکم کے حوالے سے ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ 7 اکتوبر کو کیس کی سماعت مزید التوا کے بغیر آگے بڑھائی جائے گی۔ جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر کوئی بھی پیش نہ ہوا تو عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
اس طرح آئندہ سماعت اس معاملے میں اہمیت اختیار کرگئی ہے، جہاں عدالت درخواست گزار کے وکلا کو مزید التوا کی سہولت نہ دینے کا واضح عندیہ دے چکی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے فورم پر معاملے کی میرٹ پر سماعت ہوچکی ہے اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔