وفاق سے اربوں روپے وصول کیے پھر بھی واویلا! کے پی میں پی ٹی آئی حکومت کا مالیاتی ڈرامہ بے نقاب

وفاق سے اربوں روپے وصول کیے پھر بھی واویلا! کے پی میں پی ٹی آئی حکومت کا مالیاتی ڈرامہ بے نقاب

خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کو 2010 سے ستمبر 2026 تک 799 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کی جا چکی ہے۔

 یہ رقم دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نقصانات کے ازالے کی مد میں دی گئی۔ کے پی کے محکمہ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق صوبے کو 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال ایک فیصد اضافی رقم ملتی رہی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کے پی حکومت بے نقاب ہوچکی ، آپ ریاست کو لوگوں کیساتھ لڑانا چاہتے ہیں ، نجی ٹی وی پروگرام میں اختیار ولی اور شفیع جان میں تلخ جملوں کا تبادلہ

 صرف موجودہ مالی سال کے پہلے ڈھائی ماہ میں بھی 23 ارب روپے سے زائد جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان حقائق سے پی ٹی آئی حکومت کا فنڈز نہ ملنے کا واویلا بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔

فنڈز کے حساب کتاب میں عدم شفافیت

کے پی محکمہ خزانہ کی دستاویز سے سب سے تشویشناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس اتنی بڑی رقم کا کوئی الگ ہیڈ ہی موجود نہیں ہے۔ صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں الگ ہیڈ نہ ہونے سے رقم کے استعمال کا پتہ لگانا مشکل ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اربوں روپے سیکیورٹی پر خرچ ہوئے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوئے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مسلسل فنڈز نہ ملنے کا رونا روتی رہی، جبکہ رقم باقاعدگی سے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی رہی ہے۔

صوبائی حکومت کی ناکامی اور عوامی تشویش

صوبے میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے۔ اربوں روپے کا بجٹ ملنے کے باوجود کے پی میں سیکیورٹی اور پولیس کی جدت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :قیامت خیز آتشزدگی سے پشاور لرز اٹھا! لاہوری گیٹ جلتا رہا اور حکمران سوتے رہے, تاجروں کو ایک ہی جھٹکے نے روڈ پر لا کھڑا کر دیا

جب وفاق نے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کی رقم فراہم کی تو متاثرہ علاقوں کے حالات کیوں نہ بدل سکے؟ یہ عدم شفافیت واضح کرتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے عوامی فلاح اور سیکیورٹی کے بجائے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی۔

editor

Related Articles