آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پٹرول فروخت کرنے والی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
شعلوں کی شدت کے باعث مقامی افراد میں تشویش بڑھ گئی اور تاجروں کو اپنی دکانوں، کاروبار اور جمع پونجی کے جلنے کا خدشہ لاحق ہوگیا۔
واقعے کے نتیجے میں ہونے والے بھاری مالی نقصان نے پہلے ہی مشکلات کا شکار کاروباری طبقے کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔
واقعے کے بعد سب سے اہم سوال حفاظتی انتظامات سے متعلق اٹھ رہا ہے۔ پٹرول جیسی آتش گیر اشیا کی فروخت سے وابستہ کاروبار میں معمولی سی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایسے میں شہری اور تاجر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے ان دکانوں کے حفاظتی انتظامات کی نگرانی کس حد تک کی گئی تھی اور آیا ماضی میں کسی ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی گئی تھی یا نہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک ہی واقعے نے ان کے برسوں کے کاروبار اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
متاثرہ دکانداروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اب دوبارہ کاروبار شروع کرنا اور اپنے خاندانوں کا معاشی نظام چلانا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے، متاثرہ تاجروں کو مالی معاونت فراہم کی جائے اور آتشزدگی کی وجوہات سامنے لانے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائیں۔