حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج 3 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں ہوگا جس میں دونوں فریقین کے درمیان اہم امور پر مزید بات چیت متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے 3 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز ہوا تھا جس میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف اور مطالبات پیش کیے گئے۔ تاہم پہلے دور میں کسی حتمی پیش رفت کے بغیر فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مذاکرات میں پی ٹی آئی سے اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ کو منسوخ یا مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو۔
حکومتی ذرائع کے مطابق احتجاج اور انتشار کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ گزشتہ روز مذاکرات کے دوران حکومتی نمائندوں کی جانب سے اسلام آباد مارچ روکنے کے حوالے سے واضح مؤقف سامنے آیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی کشیدگی برقرار رہی اور حالات مزید خراب ہوئے تو حکومت کی جانب سے آئینی راستے اختیار کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 سمیت دیگر قانونی و آئینی آپشنز زیر بحث ہیں تاہم ان اقدامات کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کیے جانے کا امکان ہے۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان سے متعلق مطالبات اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا معاملہ بھی اہم موضوع ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں ماحول بعض مواقع پر کشیدہ بھی ہوا اور حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ اور اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اسپیکر ایاز صادق نے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے جبکہ حکومتی ٹیم چاہتی ہے کہ احتجاجی مارچ کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کی تاریخ قریب ہے اور وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ مختلف راستوں پر رکاوٹوں اور سکیورٹی اقدامات کے باعث شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
آج ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقین کے درمیان احتجاجی مارچ سکیورٹی صورتحال عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور دیگر سیاسی معاملات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے کی صورت میں موجودہ سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے تاہم حتمی نتیجہ مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا۔