تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت اچانک بڑی کمی کا شکار ہوگئی جس سے پاکستان میں آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق بیانات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے تاہم تازہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل 3.68 فیصد سستا ہوگیا اور اس کی قیمت 3.42 ڈالر کم ہوکر 89.45 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
اسی طرح لندن برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 2.51 فیصد کمی ہوئی۔ برینٹ کی قیمت 2.57 ڈالر کم ہوکر 99.74 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں اس اچانک کمی کو پاکستان کے پٹرول صارفین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں اہم عنصر ہے۔
ذرائع کے مطابق ایندھن کی سپلائی چین بحال ہونے کی امید کے باعث خام تیل کے سودوں میں فروخت کا دباؤ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی قیمتوں میں کمی آئی۔
پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ صارفین کے لیے پہلے ہی بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ ایسے میں عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے سے آئندہ قیمتوں کے جائزے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم عالمی قیمت میں کمی کا مکمل اثر پاکستان میں پٹرول کی قیمت پر اسی تناسب سے پڑنا ضروری نہیں، کیونکہ مقامی قیمت کا تعین عالمی خام تیل کے ریٹ کے ساتھ ساتھ شرح تبادلہ، پٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اس لیے صارفین کے لیے اصل ریلیف کا فیصلہ پاکستان میں آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے جائزے اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حتمی فیصلے سے ہوگا۔
پٹرول مہنگا ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کا اچانک سستا ہونا اس وقت پاکستانی صارفین کے لیے ایک اہم امید ضرور بن گیا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں کمی برقرار رہی تو آئندہ پٹرولیم قیمتوں میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔