آر اے ایف فیئر فورڈ برطانیہ میں امریکی فضائی کارروائیوں کیلئے اہم اڈہ رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں وہاں موجود بی ون بمبار طیارے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں بھی استعمال ہوئے۔
ممکنہ خطرے کا معاملہ
طیاروں کی واپسی ایک ایسے واقعے کے بعد ہوئی ہے جس نے برطانوی فوجی اڈے کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فیئر فورڈ اڈے کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو مبینہ دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں ایک برطانوی ایرانی شہری کو بھی دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔
تمام مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
برطانوی حکام کے مطابق اڈہ محفوظ ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے طیاروں کی واپسی کو احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔
ایران پر الزامات
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے مبینہ سازش میں ایران کے کردار کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں ایران کو ملوث کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب اس سے قبل ان امریکی اڈوں کو جائز فوجی اہداف قرار دے چکے ہیں جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔
بی ون طیاروں کی اہمیت
آر اے ایف فیئر فورڈ سے تقریباً ایک درجن بی ون بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کیے گئے ہیں۔
یہ طیارے طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں میں بھی ان کا استعمال ہوا ہے۔
امریکی بمبار طیاروں کی اچانک واپسی نے برطانیہ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی پر توجہ بڑھا دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فیئر فورڈ سے طیاروں کی واپسی امریکا کی ایران کے خلاف کارروائی کی صلاحیت ختم نہیں کرتی۔ تاہم یورپ سے فوری فضائی کارروائی کیلئے ایک اہم مقام ضرور کم ہوگیا ہے۔
احتیاط یا بڑھتا خطرہ؟
جے ڈی وینس نے طیاروں کی واپسی کو کسی بڑے فوجی فیصلے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فوجی اثاثوں کی منتقلی کو معمول کی سرگرمی قرار دیتے ہوئے براہ راست کسی خطرے سے تعلق کو کم اہمیت دی۔
اس کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ طیاروں کی واپسی ایک خطرے کے باعث ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام کو خطرہ لاحق ہونے کی اطلاع تھی۔
یوں ایک ہی معاملے پر امریکی حکام کے بیانات میں احتیاط اور معمول کی فوجی نقل و حرکت دونوں پہلو سامنے آئے ہیں۔