وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کررہی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی احتجاج کی اجازت ہے لیکن امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ پشتون کارڈ استعمال کرکے معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق پشتون نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو برس کے دوران ہزاروں دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں محکمہ انسداد دہشتگردی کو مطلوبہ وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
دہشتگردی کا مسئلہ
اختیار ولی کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو کسی مخصوص قوم کے خلاف کارروائی قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ کئی برس سے ایک ہی سیاسی جماعت کو حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔
اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ سی ٹی ڈی کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید
اختیار ولی نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مقاصد کیلئے مختلف بیانیے استعمال کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی پشتون کارڈ اور کبھی دیگر جذباتی حوالوں کے ذریعے لوگوں کو سیاسی مقاصد کیلئے متحرک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سیاسی کشمکش کا ایندھن نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے سیاسی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کا خیال رکھنے پر زور دیا۔
اختیار ولی نے کہا کہ وفاقی حکومت پشتون عوام کے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف ریاستی پالیسی پوری طرح واضح ہے۔
مذاکرات کا معاملہ
پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چودھری نے بھی پی ٹی آئی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مفاہمت اور مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے تھے۔
دانیال چودھری نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ معاملات حل کرنے کی کوشش کی تھی۔