سہیل آفریدی نے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، بنوں سے 5 شہریوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

سہیل آفریدی نے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، بنوں سے 5 شہریوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

ضلع بنوں کے علاقوں ککی اور منڈان میں 5 افراد کی گولیوں سے چھلنی نعشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ صوبہ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں ترک کر کے اور عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے نکل پڑا ہے، صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور حکومت کی ترجیحات پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ضلع بنوں کے علاقوں ککی اور منڈان میں 2 الگ الگ لرزہ خیز واقعات سامنے آئے ہیں جہاں سے مجموعی طور پر 5 افراد کی گولیوں سے چھلنی نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کردیا ، سہیل آفریدی کا خالی کرسیوں سے خطاب، گانڈی چوک میں صرف چند درجن کارکن موجود

رپورٹ کے مطابق ان تمام افراد کو فائرنگ کر کے بے رحمی سے قتل کیا گیا ہے۔ پہلے واقعے میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع علاقے فیروز فتح خیل سے 2 مقتولین کی لاشیں ملیں، جن کی شناخت 55 سالہ شیر ایاز خان اور 25 سالہ عدنان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

مقتولین کی شناخت اور پولیس کی کارروائی

دوسری جانب تھانہ ککی کی حدود میں واقع علاقے نار بوستان سے 3 افراد کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ جن میں سے 2 کی شناخت 44 سالہ کریم خان اور 49 سالہ سعد اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ تیسرے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

واقعات کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور دیگر ضروری قانونی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا۔ تاہم، اس دل دہلا دینے والے واقعے پر پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

عوامی تحفظ بمقابلہ سیاسی ترجیحات

ان افسوسناک واقعات نے صوبے کی انتظامی اور سیاسی صورتحال کو ایک بار پھر سرِفہرست لا کھڑا کیا ہے۔

ایک طرف جہاں صوبہ خیبر پختونخوا معصوم اور بے گناہ لوگوں کی مقتل گاہ بن چکا ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہاں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی سہیل آفریدی حکومت عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر لانگ مارچ پر نکل پڑے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت شہریوں کے ٹیکسوں اور سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچوں میں مصروف ہے، جبکہ دہشتگردی کے لیے دیا گیا وفاقی بجٹ بھی سہیل آفریدی اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورننگ پر اڑا رہا ہے، اس پر عوامی سطح پر شدید مخالفت اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امن و امان کی ابتر صورتحال

خیبر پختونخوا بالخصوص جنوبی اضلاع طویل عرصے سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کی زد میں ہیں۔ بنوں، لکی مروت اور شمالی و جنوبی وزیرستان جیسے علاقوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔

صوبائی انتظامیہ کی جانب سے بنیادی امن و امان قائم رکھنے میں مسلسل ناکامی نے شہریوں کے اندر شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔

سیاسی و انتظامی اثرات

کسی بھی ریاست یا صوبائی حکومت کی سب سے پہلی اور بنیادی آئینی ذمے داری اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانا ہوتی ہے۔ جب کسی خطے میں روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ لوگ نشانہ بن رہے ہوں اور انتظامیہ کی تمام تر توجہ وفاق کے خلاف سیاسی لشکر کشی اور احتجاجی جلسوں پر مرکوز ہو، تو اس سے حکومتی ترجیحات کا بگاڑ واضح طور پر سامنے آتا ہے۔

مزید پڑھیں:چرس بھی بکے گی، منشیات کا کاروبار بھی چلے گا، ہم اپنی صدیوں پرانی ثقافت نہیں چھوڑ سکتے، سہیل آفریدی کی گمراہ کن تقریر

سرکاری وسائل اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال صوبائی مشینری کے معطل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگر حکومت نے سیکیورٹی چیلنجز پر توجہ دینے اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال کرنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کا سلسلہ برقرار رکھا، تو اس سے نہ صرف دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج بھی ناقابلِ تلافی حد تک بڑھ جائے گی۔

Related Articles