ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی کامیابی کی صورت میں ہر بالغ امریکی شہری کو 5000 ڈالر دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
نبراسکا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے معاشی بہتری سمیت ایران اور وینزویلا کے خلاف بڑی عسکری و سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔
امریکا میں آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں نے اپنی مہم میں پوری طاقت جھونک دی ہے۔
اس وقت ریپبلکنز کو ڈونلڈ ٹرمپ کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے باعث سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے وہ مختلف ریاستوں میں عوامی اجتماعات سے مسلسل خطاب کر رہے ہیں۔
ریاست نبراسکا میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران، اپنے حامیوں کو متوجہ کرنے کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کی پارٹی یہ وسط مدتی الیکشن جیت لیتی ہے، تو ہر امریکی شہری کو 5000 ڈالر دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ وہ اس سے قبل بھی اپنے خطابات میں ہر بالغ شہری کو یہ رقم دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
معاشی دعوے اور میڈیا پر کڑی تنقید
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی معاشی حالت اس وقت ماضی کے مقابلے میں اپنی بہترین سطح پر ہے۔
تاہم انہوں نے امریکی پریس کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک دیانت دار اور بہترین میڈیا کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کے میدان میں ایسے لوگوں کا ہونا لازمی ہے جو حقائق کی پردہ پوشی کے بجائے انہیں دیانتداری سے عوام تک پہنچائیں۔
وینزویلا اور ایران سے متعلق سنسنی خیز بیانات
خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی غیر معمولی دعوے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے محض ایک گھنٹے اور 40 منٹ کی قلیل مدت میں وینزویلا کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اب وہاں سے ہر ہفتے 10 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل حاصل کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایران کے حوالے سے انہوں نے شرکائے جلسہ کو بتایا کہ امریکا نے تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے کامیابی کے ساتھ روک دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی افواج نے ایرانی طیاروں اور ریڈار کے نظام کا مکمل خاتمہ کر کے مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
امریکی سیاسی کشمکش اور وسط مدتی انتخابات
امریکی وسط مدتی انتخابات کو ہمیشہ سے موجودہ سیاسی قیادت کی کارکردگی کا ایک عوامی ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کا فیصلہ کرتے ہیں، جو آئندہ قانون سازی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
ڈیموکریٹس ان انتخابات کے ذریعے ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں، جبکہ ریپبلکنز اپنی بقا اور پالیسیوں کے تسلسل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔
انتخابی بیانیے اور خارجہ پالیسی
انتخابی مہم کے دوران عوام کو براہِ راست نقد رقوم کی فراہمی جیسے اعلانات عام طور پر ووٹرز کو راغب کرنے کی ایک انتہائی جارحانہ حکمت عملی تصور کیے جاتے ہیں۔
5000 ڈالر فی شہری کا وعدہ بظاہر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انتخابی میدان میں مقابلہ کس قدر کڑا ہے اور گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے کس حد تک غیر معمولی اعلانات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا پر اتنے کم وقت میں کنٹرول اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کر کے آبنائے ہرمز پر قبضے کے بیانات دراصل امریکی قوم پرستی کے جذبات ابھارنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
یہ دعوے ایک ایسا سخت گیر سیاسی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں، جس کا مقصد ملکی سلامتی کے محاذ پر ایک مضبوط رہنما کا تاثر قائم کر کے زیادہ سے زیادہ عوامی ہمدردیاں اور ووٹ سمیٹنا ہے۔