حلقہ سیلاب میں ڈوبا، وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں مگن ! سہیل آفریدی کی عوامی مسائل سے چشم پوشی، لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑدیا

حلقہ سیلاب میں ڈوبا، وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں مگن ! سہیل آفریدی کی عوامی مسائل سے چشم پوشی، لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑدیا

خیبر پختونخوا حکومت پر صوبائی وسائل کو احتجاج کی نذر کرنے کے الزامات کے دوران ہی عوامی مسائل اور سیلاب جیسی سنگینی کو بھی نظر انداز کردیا گیا ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقے میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور وہ خود موقع سے ہی فرا راختیار کرچکے ہیں ، حکمرانوں نے ایک قیدی کو چھڑانے کیلئے پورے صوبے کی عوام کو داو پر لگا دیا ہے ۔

قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کسی بھی قیادت کے لیے ایک کڑی آزمائش ہوتے ہیں ،  یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب ایک سچا اور ذمہ دار حکمران اپنے پروٹوکول اوراحتجاجی سیاست کو چھوڑ کر  فرنٹ لائن پر موجود ہوتا ہے تاکہ مصیبت میں گِھرے اپنے عوام کی ڈھارس بندھا سکے۔

 لیکن بدقسمتی سے جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نام نہاد خادموں کی ترجیحات میں عوام کی جان و مال سے زیادہ سیاسی مفادات عزیز ہو جائیں، توعوام ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں یہی حال وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے حلقے کا بھی ہے جہاں سیلابی صورتحال کے باعث لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ،  ایک طرف پانی کے ریلے بستیاں بہا رہے ہیں، لوگ اپنی جمع پونجی، مال و متاع بچانے کیلیے  بے بسی کی تصویر بنے مدد کے منتظر ہیں، تو دوسری طرف صوبے کے وزیراعلیٰ اپنے ہی حلقے اور عوام کو تنہا چھوڑ کر لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔

پی ٹی آئی کا  لانگ مارچ جو آج تیسرے دن میں داخل ہوگیا ہے لیکن  عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ، لاکھوں کے مجمعے کا دعوی کرنیوالے مشکل سے سینکڑوں کی گنتی بھی عبور نہیں کرپائے ،  پی ٹی آئی کا قافلہ گزشتہ روز کرک سے ہوتا ہوا کوہاٹ پہنچا تھا تاہم ذرائع کے مطابق رات گئے احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں کی تعداد محدود رہی اور کارکنوں میں یہ سوال زیر بحث رہا کہ احتجاجی سرگرمی کے اگلے مرحلے کی قیادت کون کرے گا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رات کے وقت احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں کو نمایاں پارلیمانی قیادت کی وہ موجودگی نظر نہیں آئی جس کی توقع ایک بڑے سیاسی احتجاج کے دوران کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا! کرک میں پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کے بیچ ٹھیلے سجا لیے

عوام کے ووٹوں سے اقتدار کی سیڑھیوں تک پہنچنے والے یہ رہنما آج اسی عوام کی پریشانیوں سے لاتعلق کیوں ہیں؟ یہ سوال ہر اس کے پی میں بسنے والے کے ذہن میں گونج رہا ہے جو اس وقت پانی میں ڈوبا ہوا ہے ، مشکل کی اس گھڑی میں وزیراعلیٰ کی اپنے حلقے سے روپوشی اور بے حسی نہ صرف عوامی مینڈیٹ کے ساتھ صریحاً غداری ہے، بلکہ اخلاقی زوال کی بھی بدترین مثال ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمران عوام کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے بجائے اقتدار کے مزے لوٹنے کو ترجیح دیتے ہیں، تو عوام انہیں معاف نہیں کرتے  اب جب مصیبت کی گھڑی میں حکمران عوام کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیں، تو اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے؟

 اگر حکومتی مشینری کا رخ فوری طور پرعوامی مسائل کے حل کی جانب نہ موڑا گیا تو یہ صوبہ نہ صرف معاشی، سیاسی  اور سیکیورٹی کے  ناقابلِ واپسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles