سرد خطوں میں رہنے والا ایک انتہائی نایاب شکاری پرندہ ممکنہ طور پر راستہ بھٹک کر سندھ کے شہر سکھر پہنچ گیا، جہاں وہ شکاریوں کے ہتھے چڑھ گیا۔
یہ وائٹ ٹیلڈ سی ایگل تھا، جسے سفید دم عقاب بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس نایاب پرندے کی آمد انتہائی کم دیکھی گئی ہے اور پوری بیسویں صدی کے دوران اس کے صرف چند مستند ریکارڈ سامنے آئے۔
اسکینڈینیویا سے سندھ تک کا سفر
وائٹ ٹیلڈ سی ایگل عام طور پر اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک کے سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر سخت موسمی حالات اور خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث یہ کم عمر مادہ عقاب اپنے معمول کے راستے سے بھٹک کر سندھ پہنچ گیا۔ لیکن سندھ پہنچنے کے بعد یہ نایاب پرندہ شکاریوں کے ہاتھ لگ گیا اور اسے قید کر لیا گیا۔
شکاریوں نے پرندے کے ساتھ کیا کیا؟
ریسکیو ٹیم کے مطابق عقاب کو مبینہ طور پر شکار کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے شدید اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی آنکھوں کو سوئی سے سی دیا گیا تاکہ وہ شکار سے دور نہ جائے، جبکہ اسے اڑنے سے روکنے کے لیے اس کے پر بھی کاٹ دیے گئے۔ یوں آسمانوں میں پرواز کرنے والا یہ طاقتور شکاری پرندہ بے بسی کی حالت میں قید ہوگیا۔
سکھر سے ریسکیو کرلیا گیا
نومبر 2025 میں ہارون نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے اس نایاب مادہ عقاب کو سکھر سے ریسکیو کرلیا۔
ریسکیو کے بعد پرندے کو طبی دیکھ بھال فراہم کی گئی تاکہ اسے صحت یاب کیا جاسکے اور دوبارہ آزاد فضا میں واپس لانے کی کوشش کی جا سکے۔
وائٹ ٹیلڈ سی ایگل کو پاکستان میں ایک نایاب موسم سرما کا مہمان سمجھا جاتا ہے۔ سندھ میں اس کا ملنا جنگلی حیات کے ماہرین کے لیے اہم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک نایاب پرندے کو بچانے کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ رضاکار، وائلڈ لائف ماہرین اور محکمہ جنگلی حیات مل کر کام کریں تو نایاب جانوروں اور پرندوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
ایک وقت تھا جب یہ عقاب شکاریوں کے ہاتھوں قید تھا، لیکن بروقت ریسکیو کارروائی نے اسے دوبارہ آزاد فضا میں لوٹنے کی امید دے دی۔